خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 85

۸۵ یا فلاں ملک یا فلاں قوم میں کیوں پیدا ہوئے۔لیکن اگر کبھی افسوس نہیں ہو سکتا تو وہ محض خدا کی ذات ہے جس سے تعلق پر کوئی شخص افسوس نہیں کر سکتا اور کبھی نہیں کر سکتا۔پس حقیقی عید کیا ہوئی۔یہی کہ خدا سے تعلق ہو جائے ، اس سے ملاقات ہو جائے ، پھر کوئی برکت نہیں جو حاصل نہ ہو کوئی راحت نہیں جو میسر نہ آئے بلکہ ایسے شخص کے لئے ہر ایک آن عید ہے۔کے پس عید کیا ہے؟ خدا سے ملنا۔اس لئے عید کے دن سے عبرت حاصل کرو اور خدا سے ملنے کی کوشش کرو ایسی کوشش جو کبھی ست نہ ہو۔اگر اس کو پا لو گے تو کوئی رنج نہیں جو دور نہ ہو جائے اور کوئی راحت نہیں جو میسر نہ آئے۔جس کو خدا تعالی مل جائے اس کو کوئی موت رنجیدہ نہیں کر سکتی کوئی غصہ دکھ نہیں دے سکتا۔دیکھو بیوی خاوند جن میں خوب محبت ہو اور پھر کوئی ایسا وقت جبکہ ایک دوسرے کو یقین ہو کہ ہم میں بہت محبت ہے اس وقت اگر خاوند غصہ والی شکل بنائے بھی تو کیا عورت ناراض ہو گی۔ہر گز نہیں۔بلکہ ہنس دے گی اور سمجھے گی کہ یہ بھی پیار ہے۔پس جس کے ساتھ خدا کو محبت ہو اور جس کا خدا سے تعلق ہو اسے اگر غصہ کی نظر سے بھی دیکھے تو وہ رنجیدہ نہیں ہو گا بلکہ یقین کرے گا کہ یہ غصہ نہیں بلکہ یہ بھی ایک اظہار محبت کا طریق ہے۔کسی عزیز کی موت اسے غمگین نہیں کر سکتی ، کوئی لڑائی کوئی فتنہ اور کوئی منصوبہ اس کو غمگین نہیں کر سکتا کوئی بیماری اور کوئی روگ ہو اس کا دل افسردہ نہیں ہو سکتا۔پس اگر عید چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ سفید کپڑے پہننے اور سیویاں کھانے کا نام عید نہیں ہے کہ بلکہ عید یہ ہے کہ خدا سے تعلق ہو جائے اور بندے کی اس سے صلح ہو جائے۔یہ عید جب آتی ہے تو جاتی نہیں اور اس عید کے دن کی شام نہیں۔اس کو کوئی زمانہ ہٹا اور ختم نہیں کر سکتا۔وہ دن ایسا ہے کہ اس کی عید ختم نہیں ہوتی۔جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ہے جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو تو ہی وہ عید نہ اس دنیا میں ختم ہوتی ہے نہ قبر میں ختم ہوتی ہے نہ اگلے جہان میں ختم ہوتی ہے بلکہ اس عید کا دن یہاں چڑھنا شروع ہوتا ہے اور اگلے جہان میں عروج پر ہوتا ہے۔پس اس عید سے یہ سبق لوجو خدا نے مقرر کیا ہے۔دوسری عید جو اس سے چھوٹی ہے مگر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ سے محبت رکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے بندوں سے محبت کی جائے۔ھو اور اگر یہ ضروری نہ ہو تا تو بجائے اس کے کہ خدا تعالی ماں