خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 82

사 (10) ( فرموده ۸ - جون ۱۹۲۱ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام - قادیان) دنیا میں دو قسم کی طبیعتیں ہوتی ہیں۔بعض وہ جو ہر بات کو خواہ وہ کسی قسم کی ہو بُرے معنوں میں لے جاتے ہیں خواہ اچھی خبر ہو تو وہ افسوس کرتے ہیں اور ہر بات کا بُرا پہلو لیتے ہیں۔خوشی ان کے لئے رنج اور راحت ان کے لئے افسردگی کا موجب ہوتی ہے۔اور کچھ ایسے ہیں جو ہر بُری بات کو اچھے معنوں میں لیتے ہیں کوئی تکلیف ہو ان کو گھبرا نہیں دیتی۔یہ مطلب نہیں کہ ان کو احساس نہیں ہوتا۔نہیں احساس تو ہوتا ہے مگر وہ برداشت کرتے ہیں۔ان پر غم کا اثر کم ہوتا ہے جس طرح بعض پر خوشی کا اثر کم ہوتا ہے۔شاید بعض لوگ میرے خطبات عید سن کر کہیں کہ یہ ہمیشہ رنج کی خبریں سناتا ہے۔لیکن یاد رہے کہ خدا نے میری طبیعت ایسی نہیں بنائی کہ خوشی کی بات کو رنج کی بات بتاؤں۔عظمند انسان ہر ایک بات کو سمجھتا اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اس سے عبرت حاصل کرتا ہے۔پس میں اگر خطباتِ عید میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ کچی عید کیا ہے تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ خوشی کو رنج سمجھتا ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جس واقعہ سے عبرت حاصل ہو سکتی ہو اس سے عبرت حاصل کریں اور اس کو یونہی نہ جانے دیں۔آج میں پھر اسی بات کو دُہراتا ہوں جس بات کو قریباً ہر عید کے خطبہ پر دُہراتا رہا ہوں کو الفاظ اور امثلہ اور طرز بیان میں تبدیلی آگئی ہو۔پس میں آج پھر کہتا ہوں کہ عید ہمیں ایک بات کی طرف توجہ دلاتی ہے اور اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جو یہ ہے کہ انسان کا دل راحت کے سامان چاہتا ہے اور پھر توجہ دلاتا ہے کہ وہ راحت کس طرح حاصل ہوتی ہے۔کوئی مسلمان عید کے دن کو ماتم کا دن نہیں سمجھتا لیکن کیا ہمارے یہ کہنے سے وہ عید ہو جاتا ہے۔ہر ایک شخص کے کہنے سے یا شریعت کے عید کہنے سے عید ہر ایک کے لئے عید نہیں ہو سکتی۔کیا وہ شخص جس کے گھر میں موت ہوئی ہو وہ عید کے دن کو عید سمجھے گا یا کوئی شخص جس کا کوئی رشتہ دار بیمار ہو وہ عید سے خوشی محسوس