خطبات محمود (جلد 1) — Page 473
۴۷۳ پیڑا بنایا کہ چلو یہ روٹی میرا بیٹا کھا لے گا اور میں خود بھوکا رہ کر گزارہ کرلوں گا لیکن ایک امیر شخص آیا اور اس نے وہ پیڑا چھین لیا پھر وہ امیر آدمی کسی دوسرے غریب شخص کے پاس جاتا ہے اور اس کے پاس سے بھی آئے کا پیڑا چھین لیتا ہے جس سے اس نے خود بھوکے رہ کر اپنے بیٹے کا پیٹ پالنا تھا۔پھر وہ امیر آدمی کسی تیسرے غریب شخص کے پاس جاتا ہے اور اس سے بھی یہ سلوک کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کے ہاں پر اٹھے پکتے ہیں وہ ان پر اٹھوں میں سے ایک پر اٹھا کسی غریب کو دے دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں اس طرح غرباء کی مدد کر رہا ت ہوں۔وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ اس نے پراٹھے کا آٹا کئی غریبوں سے چھینا ہے۔اس کو جب بھی اس ظلم کا احساس ہو گا اس پر مصیبت آجائے گی۔پھر ظالم ظلم چھوڑ بھی نہیں سکتا۔جب کسی قوم کا سٹینڈرڈ دوسری قوموں سے بوجہ ظلم اعلیٰ ہو گیا ہو تو وہ ظلم کو مٹا نہیں سکتی کیونکہ یہ ایک قومی سوال بن جاتا ہے انفرادی سوال نہیں رہتا۔یعنی اگر ایک فرد اسے چھوڑنا بھی چاہے تو وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا جب تک کہ قوم کی اکثریت اس کے ساتھ نہ ہو۔ایک چور چوری کی عادت چھوڑ سکتا ہے، ایک ظالم ظلم کو ترک کر سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اسے کسی ہمسایہ یا دوست کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جو قوم دوسری قوم کو اقتصادی طور پر اپنا غلام بنالیتی ہے وہ اگر دو سروں پر ظلم کرنا ترک بھی کرنا چاہے تو وہ ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ عام طور پر کسی ملک کی اکثر آبادی کسی کام میں متفق نہیں ہو سکتی اور جب کسی ملک کی اکثر آبادی اس بارہ میں متفق نہ ہو تو قومی عیب دور نہیں ہو سکتا۔پس عید انسان نہیں لا سکتا عید صرف خدا تعالیٰ لا سکتا ہے لیکن اس کا طریق اور ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ جب تم خدا تعالیٰ سے دعا کرو تو رونی صورت بنا لیا کرو گا کیونکہ قاعدہ ہے کہ اگر مظلومیت کا جھوٹا احساس بھی کیا جائے تو وہ حقیقی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ہم نے خود دیکھا ہے کہ ایک شخص جھوٹی شکایت لے کر آتا ہے اور ادھر ادھر کی باتیں بناتا ہے تاہم اس کی بات مان لیں لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس پر یہ حالت طاری ہو جاتی ہے کہ اگر ہم کہیں کہ تو مظلوم نہیں تو اسے غصہ آتا ہے۔عربی زبان میں ایک لطیفہ ہے کہ ایک غریب لڑکا تھا امراء کے لڑکے اسے مارتے وہ تو ان سے بچنے کے لئے یہ کہہ دیتا کہ فلاں شخص کے ہاں آج دعوت ہے۔وہ لڑکے وہاں چلے جاتے اور اس کی جان بچ جاتی لیکن پھر آپ بھی بھاگ کر اس گھر کی طرف چلا جاتا اور خیال کرتا کہ میں نے مفت میں مار بھی کھائی اور اگر فی الواقعہ وہاں دعوت ہوئی تو کھانے سے بھی میں محروم رہ