خطبات محمود (جلد 1) — Page 459
۴۵۹ کسی انسان کے ذریعہ ملا ہے اور جو روپیہ خدا تعالیٰ کے ذریعہ ملتا ہے اس کا حساب تم نہیں لگاتے۔تم کہو گے کہ ہم نے وہ ثواب دیکھا نہیں لیکن تم نے وہ نعماء جنت بھی تو نہیں دیکھیں جن کے متعلق تمہیں یقین ہے کہ وہ محمد رسول الله ل ل ل ا ل لیول پر ایمان لانے کے نتیجہ میں تمہیں ملیں گی۔اگر تم ان نعمائے جنت پر بغیر دیکھے ایمان لے آئے ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ تمہیں اس پر بھی ایمان لے آنا چاہئے۔تمہیں دو طرف سے تنخواہ ملتی ہے اگر تمہیں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے تیس روپیہ تنخواہ ملتی ہے تو خدا تعالیٰ تمہیں تمہیں ارب روپیہ تنخواہ دیتا ہے لیکن تم اپنی ایک آمد کا اندازہ لگاتے ہو اور دوسری کا نہیں۔ایک شخص اگر دو آدمیوں کا چپڑاسی ہے ہیں رو پید ا سے ایک جگہ سے ملیں اور نہیں روپیہ ایک جگہ سے ملیں لیکن دریافت کرنے پر وہ یہ بتائے کہ میری آمد صرف ہیں روپیہ ہے تو جب سننے والوں کو حقیقت معلوم ہوگی تو وہ اسے شرمندہ کریں گے اور کہیں گے کہ تم دھوکے باز ہو۔تمہیں میں روپیہ تنخواہ نہیں ملتی بلکہ چالیس روپیہ تنخواہ ملتی ہے اسی طرح سلسلہ کا کام کرنے والا دو طرف سے تنخواہ لیتا ہے اسے انسان تھوڑا دیتا ہے اور خدا تعالی زیادہ دیتا ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آمد ہوتی ہے اسے نہیں گنتا وہ دھوکے باز ہے، فریبی ہے۔لیکن اگر تم اس انعام کی قدر کرو گے تو خدا تعالٰی بھی تمہارا خیال رکھے گا۔اگر تم دو آدمیوں کی جگہ کام کرتے تو تمہیں تنخواہیں بھی ملتی رہتیں اور ریز روفنڈ بھی قائم ہو جاتا۔پرسوں سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ جماعتی لحاظ سے ہماری یہ عید خوشی کی نہیں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ہم اپنے کارکنوں کو خواہ وہ کمزور ایمان والے ہی ہیں گزارہ دینے کے قابل نہیں۔بے شک ہم یہ تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کوئی رستہ کھول دے گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہم میں سے گند کو نکال دے اور مخلص آدمیوں کو الگ کر لے تا ہماری کمزوری دور ہو جائے۔ناظر تو آرام سے سو رہے تھے لیکن میں عید سے پہلی رات اس غم کی وجہ سے سو بھی نہیں سکا کہ ہمارے کارکنوں کو عید سے قبل گزارہ نہیں مل سکا۔کچھ دیر کے لئے آنکھ لگ جاتی تھی اور پھر کھل جاتی تھی۔اسی طرح میں ساری رات بیدار ہو تا رہا اور دعا کرتا رہا۔تہجد کے وقت بھی دعا کرتا رہا۔میں تمہیں وہ دعا نہیں بتانا کہ تم اس سے ہی خوش ہو جاؤ گے لیکن ساری رات میرے دل پر یہ اثر تھا کہ ہمارے کارکنوں کو عید سے پہلے گزارے مل جانے چاہئیں تھے۔کل چھ بجے دعا ہوئی لیکن عصر کے بعد تک میں یہی دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالی کارکنوں پر رحم کرے اور ہماری حالت کو درست فرمائے۔