خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 451

۴۵۱ بد بخت ہے جو کہے کہ یہ دن بار بار آئیں۔ہم تو یہی کہیں گے کہ ایسے دن اسلام اور احمدیت پر نہ آئیں۔اسلام اور احمدیت پر فتح اور کامیابی کے دن بار بار آئیں ، ان پر غلبہ کے دن بار بار آئیں ، خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی برکتوں کے دن بار بار آئیں ، مرکز کی مضبوطی اور اس پر قبضہ کے دن بار بار آئیں، نیکی، تقوی پر ہیز گاری اور خدا تعالیٰ کی رضاء کے حصول کے دن بار بار آئیں جب ایسا ہو گا تو ہمارے لئے حقیقی عید ہوگی۔یہ عید ہمیں یاد دلانے آتی ہے کہ اے بندۂ خدا! تم عید منا رہے ہو لیکن تم یہ فکر نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ تمہارے لئے حقیقی عید لائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ ایسا کر سکتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ یہ وقت انسان کی اپنی کوششوں کے نتیجہ میں آتا ہے۔سو تم اپنے قلوب کی اصلاح کرو اپنے اندر سچائی پیدا کرو دیانت پیدا کرو ، فتنہ و فساد کو کچل دو تم اپنے ایمان کی فکر کرو تا خدا تعالیٰ ہمارے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے عید کا دن لائے اور پھر اس عید کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھے۔اے خدا! تو اپنے کمزور بندوں کو معاف کر اور انہیں توفیق دے کہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں ایسی اصلاح جو تیرے فضل کو کھینچ سکے تا دنیا پر اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور تیرے بندے بھی عید کا منہ دیکھ سکیں۔اب میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے حقیقی خوشی کا دن لائے اور وہ ہمارے لئے خیر و برکت کا موجب ہو۔اصل چیز یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور کرے کہ وہ اس خوشی کے دن کے آنے میں روک بن رہی ہیں۔آخر خدا تعالی کا فرشتوں سے کیا رشتہ ہے کہ وہ آسمان پر فرشتوں میں رہتا ہے اگر تم فرشتے بن جاؤ تو خدا تعالیٰ اسی طرح زمین پر آجائے جس طرح وہ آسمان پر ہے۔(الفضل ۱۷۔جولائی ۱۹۵۱ء) جماعت احمدیہ کے دائمی مرکز قادیان کی طرف اشارہ ہے۔جہاں سے خدائی سنت اور تقدیر کے تحت ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرنا پڑی۔