خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 450

۴۵۰ (۴۱) (فرمودہ ۲۔جولائی ۱۹۵۱ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ) کل غلطی سے عید کا وقت ساڑھے نو بجے صبح مقرر ہو گیا اور یہ غلطی اس لئے ہوئی کہ میں نے پچھلے تین سال یہ عید کوئٹہ کے مقام پر گزاری ہے کوئٹہ ایک لمبا شہر ہے وہاں دوست کئی کئی میل سے عید کے لئے آتے ہیں۔پھر فوجی لوگ بھی ہیں ان کا بھی لحاظ رکھ کر عید دیر سے پڑھی جاتی ہے لیکن یہاں گرمی اور آبادی کی وسعت کے لحاظ سے وقت ساڑھے آٹھ ہونا چاہئے تھا بلکہ اس سے بھی پہلے یہ نماز ادا ہونی چاہئے اور عید الاضحیہ تو سات بجے ہونی چاہئے بہر حال ہمارے کارکنوں کو چاہئے کہ وہ آئندہ اگر مجھ سے عید کا وقت پوچھیں تو مجھے یاد دلایا کریں کہ احباب کی ضرورتوں اور موسم کا لحاظ ضروری ہے۔دوستوں کی ضروریات اور موسم کا لحاظ رکھتے ہوئے میں خطبہ اختصار کے ساتھ پڑھوں گا اور اس لئے بھی کہ زیادہ لمبا خطبہ سننا آپ لوگوں کے لئے اس وقت نا ممکن ہے۔مشہور ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے یہاں کوئی دو سو عورت لیکچر دے رہی ہے اس شور کی وجہ سے میں خود بھی نہیں سمجھ سکتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں کجا یہ کہ آپ لوگ میرے الفاظ سن سکیں۔آئندہ عورتوں کے لئے یہاں جگہ نہیں بنانی چاہئے بلکہ دو سو گز پرے ہٹ کر جگہ بنانی چاہئے تا وہ اگر خود لیکچر دینا چاہیں تو ہمیں ان کی آواز سنائی نہ دے اور اگر وہ ہماری بات سننا چاہیں تو لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سن لیں۔آج کی تقریب کے لحاظ سے میں دوستوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ لوگوں کے لئے عید آتی ہے تو وہ ان کے لئے خوشی کی تقریب ہوتی ہے لیکن ہم جن حالات میں سے گزر رہے ہیں عید ہمارے زخموں کو ہرا کرنے کے لئے آتی ہے۔عید کے معنی لوٹنے کے ہیں اور عید کو عید اس لئے کہتے ہیں کہ یہ دن بار بار آئے لیکن آج جو اسلام کا حال ہے ، آج جو محمد کا حال ہے ، آج جو قرآن کریم کی قدر کی جاتی ہے ، آج جو خدا تعالیٰ کی قدر ہے، آج جو دین کی دنیا پر حکومت قائم ہے ، ہم جو مقدس لے مرکز سے نکال کر باہر پھینک دیئے گئے ہیں کون