خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 416

مغموم ہونے اور مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔آج کا دن عید کا دن ہے اور عید کا دن بہر حال کثرت سے خوشی اپنے ساتھ لاتا ہے۔اگر کسی کے گھر میں کوئی حادثہ ہو گیا ہو یا اسے کوئی رنج پہنچا ہو تو اور بات ہے ورنہ عام طور پر یہ دن اپنے ساتھ بے شمار خوشیاں لاتا ہے۔اسی طرح اگر تم خود اپنے دلوں کو زخمی کر لو تو اور بات ہے ورنہ مأمور کا زمانہ خوشیاں ہی لانے والا ہوتا ہے اور وہ بہر حال اوپر کی طرف جاتا ہے نیچے کی طرف نہیں جاتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالی قابض بھی ہے اور باسط بھی ہے نہ جیسے جہاز کبھی اوپر کو جاتا ہے اور کبھی نیچے کو۔جن لوگوں نے کبھی جہاز کے ذریعہ سمندر کا سفر کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ کبھی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جہاز نیچے کو جا رہا ہے اور کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جہاز اوپر کو جا رہا ہے حالانکہ جہاز سیدھا آگے کو بڑھ رہا ہوتا ہے۔مگر سفر کرنے والوں کا احساس یہی ہوتا ہے کہ جہاز کبھی نیچے کو جاتا ہے اور کبھی اوپر کو جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ جہاز آگے کو چلتا ہے نہ کہ اوپر یا نیچے کو اور جہاز کا اوپر یا نیچے ہونا اس کا اپنا اوپر یا نیچے ہونا نہیں ہوتا بلکہ سمندر کی لہروں کی بلندی یا پستی ہوتی ہے۔اسی طرح انبیاء کی جماعتیں آندھیوں اور طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے کو چل رہی ہوتی ہیں اور وہ تمام رکاوٹوں سے محفوظ رہ کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔یہاں تک کہ ان کا جہاز سلامتی کے ساتھ اس منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ ان تمام وعدوں کو پورا ہو وتے دیکھ لیتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ساتھ کئے تھے۔پس منزل مقصود تک کے لئے ایک ہی چیز کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے اندر نیک اور پاک تبدیلی پیدا کر لو۔نبیوں کی جماعتوں کے اندر عجز اور انکسار ہونا چاہیئے تکبر اور غرور نہیں ہونا چاہئے۔ان کے اندر کبھی یہ احساس نہیں پایا جانا چاہئے کہ ہم فلاں کام کو اپنی طاقت کے ساتھ یوں کر دیں گے اگر وہ فی الحقیقت زور سے ایسا کر لیں تو خدا تعالیٰ اور اس کے انبیاء کی معجز نمائی کیا رہ گئی۔تم ہمیشہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کی یہی دلیل دیا کرتے ہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو کچھ ہوا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کبھی نہیں کر سکتی تھی۔تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سچائی کی دلیل یہی دیا کرتے ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے جو کچھ ہوا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت نہیں کر سکتی تھی۔اسی طرح تم رسول کریم کے منجانب اللہ ہونے کی یی دلیل دیا کرتے ہو کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ آپ کی جماعت نہیں کر سکتی تھی لیکن تم اپنے متعلق سوچتے وقت کہہ دیتے ہو ہم یوں کریں گے اور یوں کریں گے۔بے شک تم ساتھ یہ بھی۔