خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 397

۳۹۷ 2 रा کے ساتھ پیدا ہوتی ہوگی۔آپ کو بھی اپنا شہر پیارا تھا۔آپ " کو بھی اپنی والدہ پیاری تھی، آپ کو بھی اپنی بیوی پیاری تھی مگر آپ ان جگہوں کو دیکھ نہیں سکتے تھے جہاں آپ ان سے پیار کی باتیں کیا کرتے تھے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انبیاء ان جذبات سے جو دو سرے لوگوں میں ہوتے ہیں عاری ہوتے ہیں ان کا یہ خیال حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔انبیاء کے جذبات ہم سے زیادہ لطیف ہوتے ہیں اور وہ ہم سے بہت زیادہ احساس کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں بلکہ ان کے جذبات اور زیادہ ابھر آتے ہیں۔رسول کریم ملی کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ فتح مکہ کے موقع پر اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور اتنی لمبی دعا کی کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کو اتنی لمبی دعا کرتے کبھی نہیں دیکھا۔پھر کہتے ہیں۔بَكَى بُكَاءً شَدِيدًا وَ بَکی کہ آپ اتنا روئے کہ ہم نے کبھی آپ کو اتنا روتے نہیں دیکھا۔پھر وہ صحابی کہتے ہیں کہ سارے صحابہ بھی رونے لگ گئے اور کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں سے آنسو نہ جاری ہوں حالانکہ جو جذبات رسول کریم ملی ایل ایل کے تھے وہ صحابہ کے نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ کی والدہ کی قبر تھی لیکن آپ اس شدت سے روئے کہ صحابہ پر بھی آپ کے رونے کا اثر ہو گیا اور وہ بھی رونے لگ گئے۔لاپس نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم میں کے جذبات ہماری طرح کے نہ تھے۔آپ کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی ہوگی جب صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کہاں ٹھریں گے۔آپ نے فرمایا کیا ہمارے رشتہ داروں نے ہمارے لئے کوئی مکان چھوڑا ہے کہ ہم اس میں ٹھہریں۔نہ صرف مکہ والوں نے آپ کو مکہ سے نکالا بلکہ آپ کے رشتہ داروں نے وہ مکان توڑ پھوڑ ڈالے اور انہیں فروخت کر دیا اور اس تھوڑی سی لذت سے بھی محروم کر دیا جو انسان اپنے ہمجولیوں سے محروم ہو کر اپنے مکانوں اور اپنے رہنے کے کمروں کو دیکھ کر اٹھا سکتا ہے۔پس رسول کریم میلی لی نے اپنی چیزیں بھی چھوڑ دی تھیں تو ہمارا یہ خواہش کرنا کہ آپ ہماری چائے میں شامل ہوں یا ہمارے کیکوں میں شامل ہوں ، بچپن کی خواہش ہوگی۔آپ ان عیدوں میں تو ہمارے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے لیکن اگر ہم اسلام کے لئے حقیقی عید پیدا کر دیں اور اسلام کی حکومت ظاہر و باطن پر قائم کر دیں تو یہ اکردیں وہ عید ہے کہ جس میں آپ ہمارے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ عید میں اس لئے آتی ہیں تاکہ مومنوں کو ان سے بڑی عیدوں کی طرف متوجہ کریں۔جیسے اللہ تعالٰی اس دنیا میں بھی بندوں کو نعمتیں دیتا ہے اس لئے کہ تا ان کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اگلے جہان