خطبات محمود (جلد 1) — Page 370
٣٧٠ مسلمان تو کیا جو ہتھیار جرمن جاپان اور اٹلی نے تیار کئے ہوئے تھے وہ بھی ان کے کام نہ آئے اور خدا تعالیٰ نے پرانی پیشگوئیوں کے مطابق دنیا کے تغیرات کا جو راستہ مقرر کر رکھا ہے اس میں جو بھی کھڑا ہوا وہ ہٹا دیا گیا۔لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو حضرت ابو بکر نے وَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَاِنَّ اللهَ حَيَّ لا يَمُوتُ کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔یعنی اسلام کی زندگی روحانی سامانوں سے مقدر ہے نہ کہ جسمانی سامانوں سے اور یہی وہ چیز تھی جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کو لانا چاہتے تھے۔19، احمد یہ جماعت سے بھی یہ غفلت ہوئی کہ وہ جہاد کو اکیلا دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے حالانکہ یہ کسی نبی کا کام نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کر دے۔مومن کا ایمان ہمیشہ خوف اور رجاء کے درمیان ہوتا ہے۔۲۰ وہ ڈرتا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ پر امید بھی رکھتا ہے۔جو شخص صرف ڈرتا ہے اور امید نہیں رکھتا وہ بھی کافر ہے اور جو اپنی حالت پر بالکل مطمئن ہو جاتا ہے اور ڈرتا نہیں وہ بھی کافر ہے۔مومن وہی ہے جس کا ایمان بَيْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ ہو جیسا کہ قرآن کریم کی تعلیم ہے اور صوفیاء نے لکھا ہے۔اس پس یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاد سے ممانعت کی تعلیم اس لئے دی تاکہ مسلمان کافروں سے لڑیں نہیں اور اپنے مذہب کو غالب نہ کریں اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے مسلمانوں کے دلوں میں اپنی فتح کی نسبت مایوسی پیدا کر دی جو ہر گز درست نہیں۔پس جہاد کی منسوخی اور اس کے التواء کے معنی صرف اس قدر لینا کہ اسلام کی فتح کا اب کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا آپ کی طرف نَعُوذُ بِاللهِ کفر اور الحاد کی تعلیم کو منسوب کرتا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی آکر کہہ دے کہ فلاں راستہ بند ہے اور یہ نہ بتائے کہ کھلا کونسا راستہ ہے۔پس خالی جہاد کی ممانعت کو پیش کرنا درست نہیں تھا کیونکہ یہ مضمون مسلمانوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔حقیقت ہے کہ تبلیغ اور جہاد یہ دو مضمون ہیں جو اکٹھے ایک وقت میں بیان ہونے چاہئیں اور یہ دونوں مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ہی جگہ بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ سب آپ نے یہ کہا کہ موجودہ زمانہ میں جہاد جائز نہیں تو اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ اسلام کی ندگی جہاد سے وابستہ نہیں بلکہ تبلیغ سے وابستہ ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام نے اسلام کی ترقی کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا بلکہ جو دروازہ کھلا تھا اس کو پیش کیا۔مگر ہماری جماعت کے دوست غلطی سے بند دروازہ تو پیش کرتے رہے مگر جو دروازہ کھلا تھا اور جو