خطبات محمود (جلد 1) — Page 369
۳۶۹ جوشیلے صحابہ بھی ان کے ساتھ اپنے ہاتھوں میں تلواریں لئے ادھر اُدھر ٹہل رہے تھے کہ ادھر کسی مسلمان کے منہ سے یہ نکلے کہ رسول کریم میں اور وہ فوت ہو گئے ہیں اور ادھر وہ اس کا سر تن سے جدا کر دیں۔حضرت ابو بکر خاموشی سے منبر کی طرف بڑھتے چلے گئے۔جب حضرت عمر" نے دیکھا کہ ابو بکر منبر کی طرف جا رہے ہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو یہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو میرے عقیدہ کے خلاف ہو۔چنانچہ انہوں نے حضرت ابو بکر کے ہاتھ کو پکڑ کر بات کرنی چاہئی۔حضرت ابو بکر نے جھٹکا دے کر ہاتھ چُھڑا لیا اور خاموشی سے منبر کے پاس گئے اور فرمایا۔اے لوگو!ا سنو وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ، محمد رسول الله من صرف رسول تھے خدا نہیں تھے۔خدا فرماتا ہے کہ اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے۔پھر آپ نے فرمایا - مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيَّ لَا يَمُوتُ۔اے لوگو! سنو جو شخص تم میں سے محمد رسول اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا۔وہ دیکھ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔۱۸، یہی نظارہ ہمیں آج بھی دکھائی دے رہا ہے۔جو لوگ اسلام کو صرف دنیوی طاقت کی صورت میں دیکھ رہے تھے وہ دیکھ لیں کہ اسلام ان کے سامنے مردہ پڑا ہوا ہے لیکن وہ لوگ جو اسلام کو خدا کے دین کی شکل میں دیکھ رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ اسلام صرف دنیوی طاقت کی صورت میں نہیں بلکہ روحانیت کی صورت میں ہے وہ جانتے ہیں کہ اسلام زندہ ہے زندہ رہے گا اور دنیا کی کوئی طاغوتی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا تھا کہ :۔حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وه کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا یہ ارشاد ایسا تین اور واضح طور پر آج پورا ہو رہا ہے کہ سوائے کسی احمق اور پاگل کے جس کی جگہ پاگل خانہ کے سوا اور کوئی نہ ہو اس سے انکار کی اور کسی میں جرات نہیں ہو سکتی اور کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ دنیوی سامانوں، ہوائی جہازوں، آبدوزوں اور دوسرے سینکڑوں قسم کے ان جنگی ہتھیاروں کا مسلمان مقابلہ کر سکتے ہیں جو یورپین حکومتوں نے تیار کئے ہوئے ہیں بلکہ