خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 37

۳۷ ہے۔ایک جنگ میں کچھ صحابی کھجوریں کھا رہے تھے۔ان میں سے ایک نے بعض صحابہ کو جو شہید ہوتے دیکھا تو کھجوریں پرے پھینک کر کہنے لگا میرے اور جنت کے درمیان صرف یہ کھجوریں روک ہیں۔یہ کہہ کر تلوار لے کر اتنا لڑا کہ شہید ہو گیا۔۲۰، تو یہ مال و اموال آرائش اور آسائش کی چیزیں مومن کے لئے ایک پردہ ہیں جو اس کے اور جنت کے درمیان حائل ہے۔اس کو ہٹا دیا جائے تو آگے جنت ہے۔جس طرح ایک آم یا خربوزہ پڑا ہو اور اس سے ورے مصنوعی خربوزہ رکھا ہو۔جو شخص اس مصنوعی کو لیکر بیٹھ رہے گا وہ یقینا نا کام رہے گا لیکن جو اسے چھوڑ کر اصلی کو لے گا وہ کچھ حاصل کر لے گا۔تو حقیقی خوشی اور لذتیں وہی ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے حاصل ہوتی ہیں۔یہ دنیاوی ساز و سامان عارضی خوشیاں ہیں، جو امتحان لینے اور ترقی کا موقع دینے کے لئے ہیں۔پس تم ان عارضی خوشیوں کو چھوڑو اور خدا کے لئے اپنے اموال اور جائدادوں کو خرچ کرو تا تمہیں اُس عید کے دیکھنے کا موقع ملے جو ازل سے آنحضرت ام لیا اور آپ کے صحابہ کے لئے مقدر تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے لئے ہے۔خدا تعالی ہمارے دلوں سے دنیا کی ملونی دُور کر دے اور اپنی محبت کو ہمارے دلوں میں جگہ دے۔اپنے دین اپنے جلال اور اپنی شان کو دنیا میں پھیلانے کی توفیق بخشے۔آنحضرت مال الملک کی صداقت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پیش کرنے کی ہمت اور استقلال دے۔ہمارے دلوں کو وسیع کر دے اور جس طرح ہر سال یہ چھوٹی چھوٹی عید میں آتی ہے ہیں ہمارے لئے وہ بڑی عید بھی لائے۔عجائب گھروں میں بڑی بڑی مشہور عمارتوں کے نمونے رکھے ہوتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر اصل کو دیکھنے کا شوق پیدا ہو۔لیکن جس طرح آگرہ کے تاج محل اور دہلی کی جامع مسجد کے نمونوں کو دیکھ کر ان کے اصل سے واقفیت نہیں ہو سکتی اسی طرح ان عیدوں کو دیکھ کر اُس اصل عید کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔آنحضرت ملی و جنت کے متعلق فرماتے ہیں کہ نہ وہاں کی چیزوں کو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں خیال آیا ہے کہ کس طرح کی ہیں۔اس اسی طرح اس عید کی نسبت اس وقت کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور ان عیدوں سے اس کا کچھ بھی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔پس تم دعائیں مانگو کہ خدا تعالیٰ تمہیں وہ عید دیکھنے کا موقع دے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لئے مقدر ہے۔الفضل ۱۲ اگست ۱۹۱۶ء )