خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 336

۳۳۶ السلام نے اسی وقت چھری لی بچے کو لٹایا اور چاہا کہ اسے ذبح کر دیں اتنے میں خدا نے ان پر الهام نازل کیا کہ یا اِبْرَاهِيمُه قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا لا اے ابراہیم! اس بات کو جانے دے تو نے جو کچھ دیکھا تھا اسے اپنی طرف سے تو نے پورا کر دیا ہے مگر ہمارا یہ منشاء نہیں تھا۔اصل بات یہ ہے کہ اس رویا میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بیٹا مکہ کے بے آب و گیاہ علاقہ میں چھوڑنا پڑے گا تاکہ وہاں ان لوگوں کی آبادی ہو جو۔خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اعتکاف کرنے والے اور دین کی خدمت کرنے والے ہوں سلا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو وہاں جا کر چھوڑ دیا ، اور خدا تعالیٰ نے رفتہ رفتہ ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیهما السلام دونوں نے کعبہ کی دوبارہ بنیاد رکھی اور اس طرح اسلام کی بنیاد کعبہ کی بنیاد کے ساتھ ہی قائم کر دی گئی۔عید الاضحیہ جسے بڑی عید بھی کہتے ہیں در حقیقت اسی قربانی کی یادگار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔ھا، پھر دیکھ لو اس دن کو مسلمان کیسی خوشی کے ساتھ مناتے ہیں۔امیروں کو جانے دو کئی غرباء بھی عید کے دن جانوروں کی قربانی کرتے اور اپنے دل میں بہت بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں حالانکہ عید کے دن اتنا گوشت ہو تا ہے کہ اگر مسلمان صحیح طور پر تقسیم کریں تو کوئی گھر ایسا نہ رہے جس میں گوشت نہ پہنچ جائے۔مکہ میں تو گوشت کی اس قدر کثرت ہوتی ہے کہ دُنبوں کو ذبح کر کے گڑھوں میں دبا دیا جاتا ہے۔حج کے دنوں میں پچاس ساٹھ ہزار حاجی جمع ہوتے ہیں اور بعض دفعہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ آدمی بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھر ہر شخص صرف اپنی طرف سے ہی قربانی نہیں کرتا بلکہ کوئی اپنے ماں باپ کی طرف سے قربانی کرتا ہے اور کوئی کسی اور رشتہ دار اور دوست کی طرف سے۔میں نے ہی سات آٹھ دنے قربانی کئے تھے جن میں اپنے علاوہ ایک ایک دنبہ رسول کریم حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول کی طرف سے بھی تھا۔اور جو زیادہ حیثیت رکھنے والے ہیں وہ تو ہیں ہمیں تمھیں تمھیں دینے قربانی کرتے ہیں اس طرح دنبوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہو کر لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔اتنے دنبوں کو بھلا کون کھا سکتا ہے اس لئے گورنمنٹ نے گڑھوں کا انتظام کیا ہوا ہوتا ہے۔قصاب چھری پھیرتے اور کھال اتار کر فوراً گڑھے میں ڈال دیتے ہیں۔البتہ ایسے موقع پر ادھر ادھر سے اعراب آجاتے ہیں اور وہ بعض موٹے تازے دنبے چھین جھپٹ کر لے جاتے ہیں۔میں نے ہی جب دُنبے ذبح کرانے چاہے تو