خطبات محمود (جلد 1) — Page 236
۲۳۶ کسی لڑائی کا دس میں سال تک جاری رہنا تو معمولی بات سمجھی جاتی تھی۔پھر لڑائیاں ان میں ایسی وجوہ کی بناء پر ہوتی تھیں کہ سن کر انسان کو حیرت ہوتی ہے۔مثلا کسی کے کھیت میں کسی آوارہ کتیا نے بچے دے رکھے تھے کسی اور شخص کے مہمان کی اونٹنی چرتے چرتے اس کھیت میں چلی گئی اور ایک پلا اس کے پاؤں کے نیچے آکر مرگیا۔کھیت والے نے اس بناء پر کہ اس کتیا نے میرے کھیت میں پناہ لی تھی اونٹنی کو مار دیا۔جب میزبان نے سنا تو اس نے کہا کہ میرے مہمان کی اوٹنی کو مار دینے کا یہ مطلب ہے کہ گویا مجھے مار دیا اس لئے اس نے اونٹنی کو مارنے والے شخص کو قتل کر دیا۔اس پر مقتول کے دوست رشتہ دار اس کا انتقام لینے کے لئے آئے ادھر اس کے دوست رشتہ دار شامل ہو گئے اس طرح تمام عرب میں لڑائی کی آگ بھڑک اُٹھی اور سالہا سال تک جاری رہی۔باوجود ان حالات کے جب رسول کریم میں نے فرمایا کہ میں ان تمام لڑائیوں کو مٹاتا ہوں جو پیچھے گزر چکیں۔وہ اب ان کی یاد قائم نہیں رکھی جائے گی تو اسی وقت سب لڑائیاں ختم ہو گئیں اور ان کا نشان تک باقی نہ رہا۔تو انبیاء کی اصل غرض یہ تی ہے کہ لوگوں میں اتحاد اتفاق اور مساوات پیدا کریں۔یہ مساوات اُس مساوات سے الگ ہوتی ہے جس کا دنیا کی مختلف قومیں دعویٰ کرتی ہیں۔سوشلسٹ بھی کہتے ہیں کہ ہم مساوات قائم کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں کرتے وہ تو عداوت پیدا کرتے ہیں۔جن امراء سے مال چھین کر وہ غرباء کو دے دیتے ہیں ان کے دلوں میں غرباء کے لئے کب ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے۔یا وہ کس طرح غرباء کو اپنا بھائی سمجھ سکتے ہیں وہ تو انہیں ظالم اور ڈاکو قرار دیتے ہیں اور اس تاک میں رہتے ہیں کہ موقع ملے تو انہیں تباہ کر دیں اور جب موقع ملے وہ ایسا کر بھی دیتے ہیں۔اسی طرح سوشلسٹ غرباء کے دلوں میں بھی بغض پیدا کر دیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ امیروں نے ہمیں لوٹ لیا ہے۔انہیں مار دینا اور قتل کر دیتا چاہئے۔پس یہ بھی کوئی مساوات ہے کہ غریبوں کے دلوں میں امیروں سے نفرت اور امیروں کے دلوں میں غریبوں سے نفرت پیدا کی جاتی ہے۔یہ عجیب مساوات ہے جو امیروں کو غریبوں کا اور زیادہ دشمن بنا دیتی اور غریبوں کو شقی القلب کر دیتی ہے۔یا دنیا کی اور قومیں بھی ہیں جو مختلف ناموں سے مساوات قائم کرنے کی دعویدار ہیں مگر اصل میں ہے ایک بھی نہیں۔مساوات کا دل سے تعلق ہے۔گھر میں میاں بیوی، باپ ماں اور بچے ہوتے ہیں مگر دیکھو ان میں کیسی مساوات ہوتی ہے۔بیوی خاوند کی اطاعت کرتی ہے اور خاوند بیوی سے ہمدردی رکھتا