خطبات محمود (جلد 1) — Page 215
۲۱۵ ”میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔مجھے اس بات کی ہر گز تمنا نہ تھی۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبرا نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔"للہ تو نور کا خاصہ ہے کہ ظاہر ہو وہ کہاں چھپ کر رہ سکتا ہے۔پس جب انسان اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے اندر پیدا کرے تو نہ صرف اس میں بلکہ اس کے ملنے والوں میں بھی ایک پاک تبدیلی ہو جاتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ لاکھوں انسانوں کے اندر وہ تبدیلی نامکمل ہو مگر پھر بھی نور ضرور ظاہر ہو کر رہتا ہے۔جس طرح کالے کپڑے کی اوٹ میں اگر بتی جلائی جائے تو بھی روشنی نکلے گی ضرور۔اسی طرح ممکن ہے کہ محبت الہی کی روشنی پر گناہوں کی سیاہ چادر پڑی ہو مگر وہ صرف اس کے نور کو کم کر سکے گی مٹا نہیں سکتی۔اور جب کوئی انسان ایسا ہو جائے تو پھر اسے خدا کہتا ہے کہ اب تیرا حق ہے کہ میری نعمتوں سے فائدہ اٹھائے۔قرآن کریم نے دوستوں کے ہاں سے کھانا جائز قرار دیا ہے گا، مگر غیر کے ہاں سے کھانے کا کسی کو حق نہیں ہوتا۔جب تک انسان خدا کا نہیں ہو جاتا اس وقت تک خدا کی نعمتیں استعمال کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہاں جب کوئی خدا کا ہو جائے تو اس وقت اچھا کھانا پینا اور پہننا اس کا حق ہو جاتا ہے بلکہ نہ کھانا موجب ناراضگی ہوتا ہے۔دیکھو اگر ہم کسی دوست کے سامنے کچھ کھانے کے لئے رکھیں مگروہ نہ کھائے تو ہم ناراض ہوتے ہیں۔اور اگر کوئی غیر کسی کی کوئی چیز استعمال کر لے تو وہ برا مناتا ہے بلکہ اگر کسی کی طبیعت میں حیا نہ ہو تو لڑ پڑے گا ورنہ چپ رہے گا لیکن رنج ضرور محسوس کرے گا۔۱۳ پس جس کا خدا تعالٰی کے ساتھ تعلق نہیں اس کا کوئی حق نہیں کہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزیں استعمال کرے لیکن خدا سے جس کا تعلق ہو جائے اسے خود خدا تعالیٰ کہتا ہے کھاؤ پیو اور عید کا دراصل یہی مطلب ہے کہ ہم نے رمضان میں روزے رکھے یعنی کہا نہیں کھائیں گے جب تک خدا تعالیٰ ہمارا نہ ہو جائے۔مگر آج خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میرے بندے خوش ہو جا کہ میں تیرا ہو گیا پس تو کھا اور پی۔یہ گفتگو ۲۹ یا ۳۰ دن تک برابر قائم رہتی ہے اور پھر فیصلہ ہوتا ہے۔اگر تم خدا کے کلام کو غور سے پڑھنے والے ہو تو تمہیں پتہ لگے گا کہ یہ رمضان