خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 187

IAZ تمہارے مجاہدہ میں تھوڑی سی کسر باقی ہے۔تمہارے یہ روزے دراصل میرا سفر ہیں۔ان کے ختم ہوتے ہی میں تمہارے پاس آجاؤں گا۔قریب کا مفہوم ہی یہ ہے کہ جب مجاہدہ تکمیل کو پہنچ جائے تو خدا پاس آجاتا ہے۔^ اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہو جاتا ہے۔وہ اور روزوں میں تهجد، صدقہ و خیرات وغیرہ نوافل ادا کرنے کا بہت موقع ملتا ہے اور یہ مجاہدہ جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے قریب آنے کا وعدہ فرمایا ہے عید کے دن ختم ہوتا ہے۔اگر وہ مجاہدہ جس کے بعد عید آئی منافقانہ نہ تھا تو یقیناً خدا تعالیٰ مل گیا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ انسان اپنی غفلت کے سبب اسے پھر کھو دے یا حاصل کرنے کی پوری اور مکمل کوشش نہ کرے مگر اسلام نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ سال میں ایک دفعہ ضرور مومن خدا کو مل جاتا ہے۔بعض لوگ نا سمجھی کی وجہ سے کہا کرتے ہیں ہمیں خدا نہیں ملتا حالا نکہ ان کی زندگی میں کئی بار خدا کے ملنے کے مواقع آچکے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ایسا سامان کر رکھا ہے کہ اگر انسان صدق دل سے روزے رکھے نوافل ادا کرے تو کم از کم ایک دفعہ سال میں وہ ضرور مل جاتا ہے اور اس عید کا منشاء ہی یہ ہے کہ مومن کو خدا مل جائے۔رسول کریم میں لایا اور ہم نے اس عید کو کھانے کا دن فرمایا ہے۔ملے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس دن خوب پیٹ بھر کر کھایا جائے کیونکہ مومن اپنے ایک اندازہ سے زیادہ نہیں کھایا کرتا۔حدیث میں آتا ہے۔مومن اگر ایک انتڑی سے کھاتا ہے تو کافر سات انتریوں سے کھاتا ہے۔لا حضرت خلیفہ المسیح الاول کو ایک دفعہ انتڑیوں میں کچھ تکلیف ہو گئی اسہال کی شکایت تھی اس وجہ سے آپ دہی کھایا کرتے تھے۔اور صبح ہی صبح ادھ رڑ کا پیا کرتے تھے۔والدہ صاحبہ لاء نے بھینس رکھی ہوئی تھی آپ دہی بھیج دیا کرتی تھیں۔کبھی میر محمد اسحق صاحب ا، اور کبھی میں لے جاتا تھا۔دہی سے نفع پیدا ہوتا ہے اس سے آپ کو ریح را ہو گئی اور ہوا خارج ہونے لگی۔ایک دفعہ مجھے یاد نہیں میں لے کر گیا تھا یا میر صاحب مگر اس دن آپ نے فرمایا آج سے میں ادھ رڑکا نہیں پیوں گا کیونکہ رات کو مجھے الہام ہوا ہے۔بَطْنُ الْأَنْبِيَاءِ صَامِت یعنی انبیاء کا پیٹ خاموش ہوتا ہے اس لئے انبیاء کی صفت سے حصہ لینے کے لئے میں دہی کا استعمال بند کرتا ہوں۔۱۴ سو مومن کی غذا ہمیشہ ہی کم ہوتی ہے۔پس عید کے دن کو کھانے کا دن کہنے سے یہ مراد نہیں کہ اس دن خوب پیٹ بھر د۔یہ بات سنت انبیاء کے خلاف ہے۔ها بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس دن مومن یہ سمجھ کر کھاتا ہے کہ میرا خدا پیدا