خطبات محمود (جلد 1) — Page 143
۱۳ لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی دو غرضیں اور دو مقصد ہیں جو مذہب پیش کرتا ہے۔اول یہ کہ خدا تعالیٰ سے اجتماع ہو اور دوسرا یہ کہ بنی نوع انسان سے اجتماع ہو۔اے خدا تعالیٰ کے ساتھ اجتماع کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان سے ملے اور اس کے ساتھ ایک ہو جائے۔پس حقیقی عید اسی کی ہے جس کا خدا تعالیٰ سے وصال اور اجتماع ہو گیا۔جسے یہ حاصل نہیں اس کے لئے کوئی عید نہیں کیونکہ وہ ہستی جو کبھی فنا ہونے والی نہیں وہ اللہ ہی کی ذات ہے۔۱۳ دوسری تمام ہستیاں ایسی ہیں کہ جن سے اگر آج جو ڑ ہوا تو گل افتراق ہو گیا۔بعض دفعہ موت ایسے انسانوں کو جدا کر دیتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اگر فلاں وجود مجھ سے جُدا ہو گیا تو میں ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکوں گا مگر جس سے اسے اس قدر محبت ہوتی ہے وہ مرجاتا ہے اور پھر یہ زندہ رہتا ہے۔وہ وجود کہ جس کے متعلق ایک انسان خیال کرتا ہے جہاں اس کا پسینہ گرے گا وہاں میں اپنا خون گراؤں گا اور خیال کرتا ہے کہ اس سے میرا الگ ہونا میرے لئے موت ہے مگر وقت آجاتا ہے کہ اسے الگ ہونا پڑتا ہے اس کا محبوب دنیا سے چلا جاتا ہے اور وہ زندہ رہتا ہے۔دیکھو رسول کریم ملی والے سے بڑھ کر کسی سے کسی کو کیا محبت ہوگی جو صحابہ کو رسول کریم ملی سے تھی۔یا رسول کریم ملی کو صحابہ سے تھی۔۱۴ اس کا اندازہ دنیوی رشتوں اور تعلقات کی بناء پر لگایا ہی نہیں جا سکتا۔کس طرح صحابہ اپنے دوست رشتہ دار وطن اور جائدادیں چھوڑ کر آپ کے پاس آگئے تھے۔ھا، اور کس طرح رسول کریم ملی تیم کے چہرہ مبارک پر ایک نظر ڈالنے سے دنیا و مافیہ کا بھول جاتے تھے۔۱۶ لیکن رسول کریم فوت ہو گئے اور وہ آپ کے عشق و محبت میں چور جو سمجھتے تھے کہ آپ کی جدائی میں ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکیں گے زندہ رہے۔اور دس ہیں ، تمھیں ، چالیس سال تک زندہ رہے۔بے شک رسول کریم صلی اللہ و آلہ و سلم کی ذرا ذراسی بات کو یاد کر کے ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے اور بلاشبہ آپ کی محبت اور پیار کے سلوک کو یاد کر کے ان کے لئے دنیا تلخ ہو جاتی تھی۔مگر باوجود اس کے مرتے نہیں تھے ، زندہ رہے۔حضرت عائشہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ایک عورت بیان کرتی ہے ایک دن میں نے دیکھا عائشہ نے روٹی کھا رہی ہیں اور رو رہی ہیں۔میں نے پوچھا کیا ہوا تو انہوں نے کہا۔رسول کریم میں ولیوں کی زندگی میں آٹا چھاننے کا سامان نہ ہو تا تھا۔میں گیہوں کوٹ کر آپ کو روٹی پکا دیتی تھی۔اب مجھے یہ خیال آ رہا ہے کہ