خطبات محمود (جلد 1) — Page 142
ما ایک ایک لفظ شفا اور رحمت ہے۔پھر کیا یہی قرآن لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کے نزدیک گمراہی کا موجب نہیں ہے۔پس کوئی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ عید قرآن کریم سے بھی بڑھ کر مبارک ہے کہ ہر ایک کے لئے خوشی کا موجب ہو۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح قرآن کریم انسان کی قلبی حالت کے مطابق اس کے لئے شفا اور ہدایت بنتا ہے اسی طرح عید بھی کسی کے لئے عید ہوتی ہے اور کسی کے لئے نہیں ہوتی۔اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کس کے لئے عید بنتی ہے اور کس کے لئے نہیں بنتی۔اس کے لئے ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ عید میں سب سے بڑی خوشی کا موجب کیا چیز ہوتی ہے۔جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عید میں خوشی کا موجب اجتماع ہوتا ہے دوست ایک دوسرے سے ملتے ہیں ، اس دن کا روبار بند کر دیتے ہیں ، اکھٹے چلتے پھرتے ہیں اور بنی نوع میں خدا تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ جب وہ اپنے بھائیوں کو اکٹھے دیکھے تو خوشی محسوس کرے اس لئے جب انسان اکٹھے ہوتے ہیں تو خوشی اور دل بستگی حاصل کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میلے ہوں یا اجتماع ان میں خوشی کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔تو اجتماع کی خوشی فطرت میں ایسی رکھی گئی ہے کہ جب انسان اجتماع میں ہوتا ہے تو لذت اور آرام محسوس کرتا ہے اور اس کا نتیجہ ظاہری خوشی ہوتی ہے پس حقیقی خوشی اجتماع کی وجہ سے ہوتی ہے دیکھو جن کو حقیقی اجتماع میسر آتا ہے انہیں حقیقی خوشی ہوتی ہے اور جنہیں یہ میسر نہیں ہوتا ان کے لئے کوئی خوشی خوشی نہیں ہوتی۔جن عورتوں کے بچے گھروں میں ہوتے ہیں وہ عید کے دن خوشی مناتی ہیں لیکن جن کے پاس ان کے بچے نہ ہوں انہیں عید کے دن ہر چیز دیکھ کر رقت آجاتی ہے۔وہ دوسروں کو سیویاں کھلا رہی ہوتی ہیں مگر ان کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے ہوتے ہیں۔وہ دوسروں کو کپڑے پہناتی ہیں مگر خود رنج والم میں ڈوبی ہوتی ہیں۔چونکہ خوشی کے ساتھ انہیں رنج پہنچا ہوتا ہے اس لئے ان کے لئے عید نہیں ہوتی۔پھر کسی کے گھر کوئی مرجائے تو وہ کیوں عید نہیں کرتے اسی لئے کہ وہاں اجتماع نہیں رہا بلکہ جدائی ہو گئی ہے اور جدائی کی وجہ سے اس گھر والوں کو خوشی نہیں ہو سکتی۔پس جب عید کی خوشی اصل اجتماع سے ہے تو سوال یہ ہے کہ عید کی خوشی کا حق ان لوگوں کو کہاں میسر ہے جنہیں حقیقی اجتماع حاصل نہیں ہوا۔در حقیقت انسان کی پیدائش پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے۔انسان دو اجتماعوں کے