خطبات محمود (جلد 1) — Page 141
اعلیٰ نہیں رہتی۔پس یہ بالکل صحیح بات ہے کہ انسان کے قلب کی حالت اور اس کے وجود میں جو تغیر پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کی وجہ سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیرونی چیزیں جو اچھی ہوتی ہیں اس سے مل کر بُرا نتیجہ پیدا کرتی ہیں اور کبھی ایسی چیزیں جو بُری ہوتی ہیں اس سے مل کر اچھا نتیجہ پیدا کر دیتی ہیں۔دیکھو وہی خدا تعالیٰ کی کتاب جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اس میں شفا اور رحمت اور بینات ہیں۔اسے بعض لوگ جب پڑھتے ہیں تو اس میں انہیں عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔عیب قرآن کریم میں نہیں مگر جن کی بینائی میں فرق ہوتا ہے ان کو عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں دیکھو وہ شیطان جس کا کام انسانوں کے دلوں میں شبہے ڈالنا دسوے پیدا کرنا اور نیکی سے محروم کرنا ہے اس کے متعلق رسول کریم میں اور فرماتے ہیں وہ مجھے نیک باتیں کہتا ہے۔3۔اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول کریم میل ل ل ل ل مل کی نیکی اتنی ترقی کر گئی تھی کہ اگر کوئی بڑی بات بھی آپ کے کان میں پڑتی تو وہ اچھی ہو جاتی تھی۔اس کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک واقعہ سے بھی ملتی ہے۔وہ کہیں جا رہے تھے کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے کہ راستہ میں کتا مرا پڑا تھا۔ساتھیوں نے کہا کیا بد صورت جانور ہے کتنی بدبو آ رہی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا دیکھو اس کے کیسے - خوبصورت دانت ہیں۔ملا بات یہ ہے کہ جس کے اپنے اندر خوبی ہو اسے بُرائی میں بھی خوبی کا پہلو ہی نظر آتا ہے اور جس کے اندر عیب ہو وہ اچھی باتوں میں بھی عیب ہی دیکھتا ہے اس لئے اگر اچھے انسان کی نظر بڑی چیز پر پڑے تو وہ اس میں سے بھی اچھائی اخذ کر لیتا ہے اور بُرے کی نظر اگر اچھی چیز پر بھی پڑے تو اسے بُرائی ہی نظر آتی ہے۔پس یہ ایک عام قانون ہے کہ اچھی چیزیں بُری سے مل کر بڑی ہو جاتی ہیں اور بڑی اچھوں سے مل کر اچھی ہو جاتی ہیں۔پس عید بے شک عید ہے اور اس کے عید ہونے میں شبہ نہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔دودھ دودھ ہی ہے مگر مجھے اس کے پینے سے تکلیف ہو جاتی ہے ، گھی بے شک اچھی غذا ہے مگر کئی لوگوں کے معدے اسے ہضم نہیں کر سکتے ، گوشت اچھی غذا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی تعریف کی ہے لاء مگر کئی لوگوں کو اس سے بواسیر ہو جاتی ہے۔پس عید خوشی کا دن ہے۔مگر کیا ہر ایک کے لئے خوشی کا دن ہے ہر ایک کے لئے تو قرآن بھی ہدایت نہیں ہے۔کیا عید قرآن کریم سے بھی بڑھ کر ہے قرآن تو شروع سے لے کر اخیر تک ہدایت ہی ہدایت ہے جس کا