خطبات محمود (جلد 19) — Page 912
خطبات محمود ۹۱۲ سال ۱۹۳۸ خدا رسیدہ انسان سمجھیں۔چنانچہ وہ مسجد میں بیٹھ گیا اور لگاتسبیحیں پھیر نے اور نفل پڑھنے اور کی خشوع و خضوع ظاہر کرنے اور ذکر الہی کرنے اور یہ امید رکھنے کہ اب لوگ میری تعریفیں کریں گی گے اور کہیں گے کہ یہ بڑا نیک اور پاک انسان ہے۔سات سال تک وہ ایسا ہی کرتا رہا مگر لوگ کی جہاں اسے دیکھتے کہتے یہ بڑا منافق ہے، اس کا ہر کام ریاء کے لئے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اس کے مد نظر نہیں۔بچے تک اسے دیکھتے تو کہتے کہ یہ بڑا دھو کے باز ہے۔سب کام منافقت سے کرتا ہے۔ایسے دھو کے باز بعض دفعہ لوگوں میں مقبول بھی ہو جاتے ہیں اور گو خدائی فضل ان پر نازل نہیں ہوتے مگر بندوں میں ایک حد تک انہیں شہرت حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ تو انسان کے قلب کی گہرائیوں تک پہنچ جاتی ہے مگر انسان دوسرے انسان کے اندرونی حالات سے ناواقف ہوتا ہے اس لئے ایسے دھوکا باز بعض دفعہ لوگوں میں مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں اور لوگ انہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں مگر اس پر چونکہ خدا تعالیٰ اپنا کی فضل کرنا چاہتا تھا اور اسے منافقت سے نکال کر حقیقی ایمان نصیب کرنا چاہتا تھا اس لئے اس کی مقبولیت نہ ہوئی بلکہ الٹا لوگ اس کے متعلق یہی کہنے لگے کہ وہ بڑا منافق ہے۔ایک دفعہ وہ پاخانہ پھرنے جارہا تھا کہ راستہ میں چند بچے اس نے کھیلتے ہوئے دیکھے۔بچوں نے جونہی اسے کی دیکھا آپس میں ایک دوسرے سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ بڑا منافق ہے ہر وقت لوگوں کے دکھاوے کے لئے نیکی کا کام کرتا ہے۔بچوں کی نظریوں بھی وسیع ہوتی ہے اور وہ بات کو فوراً تاڑتی جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے ایک دفعہ یورپ کے ایک مشہور ہتھکنڈے دکھانے والے کی کتاب پڑھی وہ ایک مشہور پروفیسر ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ بچوں کے سامنے تماشہ کرتے وقت ہوتا ہے کیونکہ بڑے بڑے پروفیسروں، وزیروں اور امیروں کو تو ہم جھٹ دھوکا دے لیتے ہیں مگر بچے ہماری کوئی چالا کی چلنے نہیں دیتے اور وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر کہہ دیتے ہیں کہ تم نے یوں کیا تھا۔بچہ چونکہ تکلفات سے بالا ہوتا ہے اس لئے وہ حرکتوں کو خوب پہچان جاتا ہے اس موقع پر بھی بچوں نے اس کے متعلق ایک دوسرے سے کہا کہ یہ بڑا منافق ہے، اس نے جب یہ بات سنی تو اس کے دل میں سخت ندامت پیدا ہوئی اور اس نے خیال کیا کہ میں نے اپنی عمر کے سات سال یونہی ضائع کر دیئے اور مجھے نہ تو خدا ملا اور نہ ہی دُنیا ملی۔