خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 846 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 846

خطبات محمود ۸۴۶ سال ۱۹۳۸ء ضائع کیا حالانکہ اس غریب نے محبت کی وجہ سے کہیں سے قرض لے کر یا کئی روز کا فاقہ کر کے کے دعوت کی اور اس کے گلے میں کھانا اس لئے پھنس رہا ہے کہ پلاؤ نہیں اس لئے غریب آدمی مہمان نوازی سے ڈرتے ہیں لیکن اگر اسی طرح مہمان نوازی ہو کہ جس طرح گھر میں کھانا پکتا اور کھایا جاتا ہے اسی طرح مہمان کے بھی پیش کر دیا جائے تو کسی کو کوئی تکلیف نہ ہوگی اور پیسہ کی بھی خرچ نہ ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک مؤمن کا کھانا دو کیلئے کافی ہوتا ہے۔کل ہی جب میں عید پڑھ کر آیا تو معلوم ہوا کہ چھ سات ہندو دوست آئے ہوئے ہیں جن میں سے ایک ولایت کے سفر میں ہم سفر تھے۔میں نے پہلے ان سے دریافت کرایا کہ مسلمانوں کے ہاں کھا لیتے ہیں یا نہیں تا اگر نہ کھائیں تو ہندوؤں کے ہاں ان کیلئے انتظام کرایا جائے مگر انہوں نے کہا کہ ہم تو کھا لیتے ہیں۔اس پر میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ان کو لے آئیں اور سب بیویوں سے کہا کہ اپنے کھانے بھجوا دیں گو اس میں شک نہیں کہ اگر وہ کسی دوسرے روز آتے تو مجھے ان کیلئے خاص کھانا تیار کرانا پڑتا لیکن عید کی وجہ سے چونکہ نسبتا ہی اچھا کھانا تھا میں نے سب گھروں سے کھانا جمع کر لیا اور نہ ہمیں کوئی تکلیف ہوئی اور نہ مہمانوں کو۔اگر سادہ زندگی کے لوگ عادی ہوں تو ہر روز کی دعوت بھی تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر دوستوں میں سادہ زندگی کی روح قائم ہو جائے تو لنگر خانہ کی ضرورت بھی نہیں رہتی اور مہمان نوازی میں بھی کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔آنے والا مہمان بھی یہ سمجھے گا کہ جو موجو د ہو گا کھالوں گا اس لئے اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور میزبان یہ سمجھے گا کہ جو ہو گا وہ پیش کر دونگا اس لئے اسے بھی کوئی تکلیف نہ ہوگی۔انسان کیلئے بعض اوقات پیسہ مہیا کر کے خرچ کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن خود فاقہ کر لینا مشکل نہیں ہوتا۔کسی شخص کے گھر کے دس آدمی ہیں تو اگر اس کے پاس سو مہمان آجائے اور اگر اس کے پاس طاقت نہ ہو تو اسے ضرور قرض لے کر مہمان نوازی کرنی پڑے گی لیکن اگر پانچ آجائیں تو گھر کے پانچ افراد فاقہ کر کے ان کو کھلا سکتے ہیں۔فاقہ اختیار کرنا اختیاری امر ہے۔آخر روزے بھی تو رکھے ہی جاتے ہیں مگر روپیہ لانا اختیاری امر نہیں اسلئے سادہ زندگی میں انسان بغیر کسی بوجھ کے اپنا فرض ادا کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ایک دفعہ ایک مہمان آیا کی