خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 794 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 794

خطبات محمود ۷۹۴ سال ۱۹۳۸ء اور کہیں کشمیر ایجی ٹیشن شروع کرتے ہیں مگر ابھی تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو حافظہ دیا ہے اور وسیع حافظہ دیا ہے۔تم میں سے وہ لوگ جو مایوس تھے اور ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مایوسی کی عادت اپنے اندر رکھتے ہیں وہ ذرا اپنے حافظہ پر زور ڈال کر احرار کی اس طاقت کا جواُنہیں آج سے ساڑھے تین سال پہلے پنجاب میں حاصل تھی اندازہ لگائیں اور جو آج ان کی حالت ہے اس کا بھی اندازہ لگائیں ، پھر جو اُس وقت ان کے روپیہ کی آمد کا حال تھا اس کا بھی اندازہ لگائیں اور جو آج ان کے کی روپیہ کی آمد کا حال ہے اس کا بھی اندازہ لگائیں۔گورنر پنجاب نے خود ہمارے آدمیوں سے ان دنوں بیان کیا کہ سینکڑوں روپیہ روزانہ ان کو منی آرڈروں کے ذریعہ آتا ہے اور یہ ہمارے محکمہ کی رپورٹ ہے۔میں اگر غلطی نہیں کرتا تو شاید انہوں نے پانچ سو روپیہ روزانہ کی تج آمد بتائی تھی۔گویا ان دنوں پندرہ بیس ہزار روپیہ ماہوار ان کی آمد تھی لیکن آج یہ حالت ہے کہ متواتر ان کی طرف سے اپنے لوگوں کے نام یہ اعلان ہوتے ہیں کہ دس روپے ہی بھجوادیں ، دس نہیں تو پانچ ہی سہی ، میں جب اس کیفیت کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہی نظارہ یاد آ جاتا ہے جو بچپن میں میرے دیکھنے میں آیا کرتا تھا۔یہاں ایک معذور فقیر ہوا کرتا تھا۔اس کی عادت یہ تھی کہ اس کے پاس سے جو شخص بھی گزرتا اس سے ضرور کچھ نہ کچھ مانگتا وہ ہمیشہ اپنا سوال روپیہ سے شروع کرتا اور کہتا کہ ایک روپیہ دیتے جاؤ مگر یہ الفاظ کہتے ہی معاً اس کی طبیعت کہتی کہ یہ روپیہ نہیں دے گا اس لئے وہ اس کے ساتھ کہہ دیتا کہ اچھا اٹھنی ہی سہی اور بغیر وقفہ کے اس کے ساتھ زائد کر دیتا اچھا دوئی ہی دے دو، پھر کہتا کہ چلو ایک آنہ ہی سہی اتنے میں گزرنے والا اس کے پاس پہنچ جاتا اور وہ کہتا کہ دو پیسے ہی دے دو، اچھا ایک پیسہ ہی سہی جب وہ آدمی اسے چھوڑ کر آگے گزر جاتا تو کہتا کہ دھیلہ ہی دیتے جاؤ۔ایک پکوڑا ہی سہی اور جب وہ دور چلا جاتا تو زور سے آواز دیتا کہ ایک مرچ ہی دیتے جاؤ۔یہی حالت ان لوگوں کی آج ہو رہی ہے۔مگر وہ وقت ایسا تھا کہ ان سے گورنمنٹ بھی ڈرتی تھی۔چنانچہ گورنمنٹ پنجاب کے بعض