خطبات محمود (جلد 19) — Page 793
خطبات محمود ۷۹۳ ۳۷ سال ۱۹۳۸ تحریک جدید کے دور ثانی میں زیادہ جدو جہد کی ضرورت ہے (فرموده ۱۸ / نومبر ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - جیسا کہ میں گزشتہ خطبات میں بیان کر چکا ہوں تحریک جدید کا دور اول صفائی کی مثال رکھتا تھا۔اس کی غرض یہ تھی کہ دشمنوں نے احمدیت پر جو حملہ کیا تھا اس کا ازالہ کیا جائے اور دشمن کی حقیقت کو دنیا پر ظاہر کیا جائے۔واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کوشش میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے۔اس وقت ہماری سب سے بڑی مخالفت دو گروہوں کی طرف سے ہو رہی تھی ، گو شامل سارے ہی تھے مگر خصوصیت کے ساتھ ایک تو احرار مخالفت کر رہے تھے اور دوسرے حکومت کا وہ حصہ جو اندرونی طور پر برطانیہ کے دشمنوں کا ہمدرد تھا وہ اپنے عہدوں کی آڑ لے کر ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا تھا اس کوشش میں اس نے حکومت کے بعض ہندوستانی یا انگریز افسروں کو بھی جھوٹی سچی شکا یتیں کر کے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔احرار کا انجام جو ہو اوہ سب پر ظاہر ہے۔خدا تعالیٰ نے ان کی ذلت کے ایسے سامان مہیا کر دیئے کہ اب وہ مسلمانوں میں خود آزادی سے تقریر بھی نہیں کر سکتے۔کئی سال تو ایسی حالت رہی کہ لاہور میں احرار کا جلسہ ہونا ناممکن ہو گیا وہ جلسہ کرتے اور لوگ شور مچادیتے ابھی تک بہت جگہ ان کی یہی حالت ہے گو وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس لینے کے لئے اب کئی قسم کے بہانے بنانے لگ گئے ہیں۔کہیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں