خطبات محمود (جلد 19) — Page 792
خطبات محمود ۷۹۲ سال ۱۹۳۸ء بہت بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے، لیکن اگر تم کچھ اور نہیں کر سکتے تو اتنا تو کرو کہ دعائیں کرو اور اگر اور رنگ میں بھی قربانی کر سکو اور پھر ساتھ دعائیں کرو تو دُہرا ثواب حاصل کر سکو گے۔پس اس رمضان میں خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کیلئے دعائیں کرو جنہوں نے مال سے یا وقت سے یا اولاد کے ذریعہ سے قربانیاں کی ہیں یا دعاؤں سے مدد کی ہے اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو سکون اور برکت سے بھر دے، انکی قربانیاں دائمی صدقہ کا کام دینے والی ہوں، اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں اور ان کی غلطیوں کو معاف کرے اور انہیں گناہوں کی عادت سے بچائے۔ان کے قلوب میں اپنی محبت اور عرفان کے چشمے پھوڑے اور انہیں نیک نسلیں عطا کرے جو راستی پر قائم رہنے والی ہوں۔پھر یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس دور ثانی کو کہ جس کا محرک اس کی محبت ہے کامیاب کرے اور جماعت کو قربانیوں کی توفیق دے کہ دراصل یہی اصل قربانی ہے۔اللہ تعالی مالی قربانی کرنے والوں کو بچے معیار کے مطابق قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔جن کو توفیق نہیں انہیں توفیق دے اور جنہیں توفیق ہے مگر وہ کمزوری دکھا رہے ہیں ان کے لئے بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں کو دور کرے۔جن لوگوں کو مالی قربانی کی توفیق کی نہیں ان پر بھی بڑی ذمہ داری ہے۔وہ رات دن دعائیں کریں تا اللہ تعالیٰ غیب سے راستے کی کھول دے اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے دوسروں کو قربانی کی توفیق دے اور اگر سچے دل سے دعائیں کی جائیں تو یقیناً ہم کامیاب ہونگے کیونکہ الہی سلسلوں کی بنیاد ہمیشہ الہی فضلوں پر ہوتی کج ہے اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں قربانیاں کرنے کی ایک ایسی رفتار بخش دے گا جس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ ہم اور ہماری نسلیں ان کے ذریعہ اپنے اس مقصود کو پالیں گی جس کیلئے ہم پیدا کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس قدر نزدیک ہو جائیں گے اور قرب کا وہ مقام حاصل کر لیں گے جس پر دوسری برگزیدہ جماعتوں کو رشک پیدا ہوگا اور ہمارے مخالف حسد کی آگ میں جل جائیں گے۔“ (الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۳۸ء) البقرة : ١٨٦ ٣٠٢ شعب الايمان لِلْبَيْهَقِى الجزء الثاني صفحه ۳۱۱ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۰ء