خطبات محمود (جلد 19) — Page 786
خطبات محمود ZAY سال ۱۹۳۸ء کی بچت جماعت کو ہو گئی جور تم کہ چار سال کے حساب سے سوالاکھ بنتی ہے۔مگر سارے چار آنہ میں ہی دیکھنے والے نہیں ہوتے بعض روپیہ دو روپیہ کا ٹکٹ لیتے ہیں۔پھر اس سے جو وقت بچا اس کی قیمت کا اندازہ کرو گھر سے سینما آنے جانے ، تماشہ کا انتظار خود تماشہ کا وقت اگر اندازہ لگایا جائے تو تین چار گھنٹہ سے کم نہ ہوتا ہوگا یہ وقت بھی بچ گیا۔پھر گھروں میں اس سے امن قائم ہو ا۔جو لوگ سینما دیکھنے جاتے تھے ان کی بیویوں کو واپسی تک جا گنا پڑتا ہوگا۔جس سے بعض اوقات لڑائی بھی ہو جاتی ہوگی۔اب ایسے لوگ جلدی گھر آ جاتے ہوں گے اور میاں بیوی کی کو باہم دُکھ سکھ کی بات چیت کرنے کا موقع مل جاتا ہو گا، کسی کی نیند خراب نہیں ہوتی کی ہوگی۔پس یہ مطالبہ معمولی نہ تھا لیکن جماعت نے اسے سنا اور پورا کر دیا اور اس سے فوائد بھی حاصل کئے۔اس کے علاوہ کون نہیں جانتا کہ عورت کپڑوں پر مرتی ہے مگر ہزار ہا عورتوں نے دیانتداری سے لباس میں سادگی پیدا کرنے کے حکم پر عمل کیا۔یہ باتیں انفرادی قربانی اور قومی فتح کا ایک ایسا شاندار نمونہ ہیں جس کی مثال کم ملتی ہے۔یہ قربانی معمولی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کی قربانی ہے اور دیکھنے والی آنکھ کیلئے اس میں فتوحات کا لمبا سلسلہ ہے۔پھر کتنے نئے ممالک میں احمدیت روشناس ہوئی۔کم سے کم دس پندرہ ممالک ایسے ہیں۔کئی علاقوں میں گو احمدیت پہلے سے تھی مگر تحریک جدید کی جدو جہد کے نتیجہ میں اس کا اثر پہلے سے بہت وسیع ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ ایک یہ نتیجہ نکلا کہ اس سے پہلے دنیوی لحاظ سے جماعت کو صرف ایک دستہ فوج سمجھا جاتا تھا اور اس کی حیثیت مسلمانوں کے ایک بازو کی تھی لیکن احرار اور بعض حکام نے ہمارے خلاف جو شورش پیدا کی اس سے ڈر کر سارے مسلمانوں نے ہم کو علیحدہ کر دیا۔خود گورنر پنجاب نے ایک دفعہ چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے مخالف صرف احرار ہیں سب قوموں اور فرقوں کے لوگ میرے پاس آ آ کر آ پکی شکایتیں ہی کرتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس میں کچھ مبالغہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو لوگ ہمارے مؤید تھے انہوں نے کبھی ان کے سامنے اپنے خیالات ظاہر نہ کئے ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مخالفت بہت عام ہو گئی تھی۔حتی کہ وہ مسلم لیگ جس کے اجلاس بعض دفعہ نہ ہو سکتے تھے