خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 787 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 787

خطبات محمود 2A2 سال ۱۹۳۸ء اور وہ مجھ سے روپیہ لے کر اجلاس کرتی تھی اسے بھی زکام ہوا اور اس کی پنجاب کی شاخ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ احمدی اس کے ممبر نہیں ہو سکتے یہ کفرانِ نعمت کی انتہا تھی لیکن اس کی وجہ یہی تھی کہ کی اس وقت ہمارے خلاف لوگوں میں اتنا جوش تھا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اگر ہم نے احمدیوں کو شامل رکھا تو لوگ ہمیں ووٹ نہیں دیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ کی بھی ایک ہی نشست ہے گویا وہ بھی ہمارے برابر ہیں جو یقیناً ہماری فتح ہے۔ہماری جماعت تو کی مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی ہے اگر ایک ہی ضلع میں ہوں تو ہم دوممبران بھی لے سکتے ہیں مگر ہم پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ایک ممبر کا حصول بھی ہمارے لئے ناممکن ہے۔پس ایک نشست کا حاصل کر لینا بھی ہماری بہت بڑی فتح ہے لیکن ان کا صرف ایک نشست حاصل کرنا ان کی سخت شکست۔بہر حال اس وقت تک ہم مسلمانوں کا ایک حصہ سمجھے جاتے تھے مگر مسلمانوں نے گزشتہ فتنہ سے مرعوب ہو کر ہمیں اس طرح الگ کرنے کی کوشش کی جس طرح دودھ سے مکھی نکال دی جاتی ہے اور اس طرح ہمیں تن تنہا سب دشمنوں سے لڑنے کا موقع ملا اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس لڑائی میں کامیاب ہوئے اور دنیا نے محسوس کر لیا کہ جماعت احمد یہ صرف مسلمانوں کے لشکر کا ایک بازو ہی نہیں بلکہ وہ اپنی منفردانہ حیثیت بھی رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔پہلے ہماری اس حیثیت سے دنیا واقف نہ تھی تحریک جدید کے نتیجہ میں ہی وہ اس سے آشنا ہوئی ہے مگر یہ سب فتوحات جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں کی حاصل ہوئیں ہمارا مقصد نہیں۔ہمارا مقصد ان سے بہت بالا ہے اور اس میں کامیابی کیلئے ابھی بہت قربانیوں کی ضرورت ہے۔دنیا کا کوئی ملک ایسا نہ ہونا چاہئے جہاں احمدیت قائم نہ ہو۔اس وقت تک جماعت حقیقی طور پر صرف ہندوستان میں ہے اور یہاں اسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے رنگ میں مضبوطی حاصل ہے کہ اور کہیں نہیں۔ہندوستان سے اتر کر وہ ملک جہاں احمدیت کو مضبوطی حاصل ہو رہی ہے اور جہاں لوگ اسے سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا جز و بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سماٹرا اور جاوا ہیں۔وہاں سے طالب علم بھی دین سیکھنے کیلئے یہاں آتے رہتے ہیں اور جب تاریخ عالم میں احمدیت کی تاریخ لکھی جائے گی تو ہندوستان کے بعد ان جزائر کا ذکر نمایاں طور پر ہو گا۔