خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 776 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 776

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء بہت بڑا خزانہ ہے اس لئے وہ واپس اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ان پر نہ کوئی وفات کے دلائل کا اثر ہوتا ہے اور نہ ختم نبوت کا بلکہ صرف ہماری تفسیر کا۔جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اب ہمیں معلوم ہوا کہ قرآن کریم واقعی ایک زندہ کتاب ہے۔ہم بے وقوفی سے اسے چھوڑ رہے تھے تو جو فہم قرآن کریم کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور اصولی طور پر آپ نے ہمیں جس کی تعلیم دی ہے وہ اتنا بڑا خزانہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی تج ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ درمیان کے تیرہ سوسال کے تمام علوم اس کے سامنے بیچ ہیں۔پھر دوسری چیز حقیقت احکامِ اسلام ہے۔اس سے بھی مسلمان غافل تھے۔صحابہ کرام کے معاً بعد مسلمانوں نے اسلام کے احکام کی حقیقت سمجھنے سے غفلت برتنی شروع کر دی تھی۔صرف انہیں احکام قرار دے کر ان پر عمل ہونے لگا۔نماز کو ایک حکم سمجھ کر نماز ادا کی جاتی تھی اور روزہ کو ایک حکم سمجھ کر روزہ رکھا جاتا تھا مگر یہ بات کہ ان احکام کی حکمت کیا ہے اس طرف سے توجہ بالکل ہٹ گئی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ احکام اسلام پر عمل کی رغبت نہ رہی۔یہاں تک کہ چوتھی صدی میں امام غزالی نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور احکام کی حکمتیں بتا کر ان کی طرف رغبت دلانے کی کوشش کی۔ان کے لٹریچر کے نتیجہ میں کچھ توجہ اس طرف ہوئی اور اس نے مسلمانوں کو کچھ فائدہ بخشا مگر پھر نیند کا غلبہ ہوا اور احکام اسلام کے صرف لفظ رہ گئے اور روح مٹ گئی۔حتی کہ ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی کا زمانہ آیا انہوں نے بعض کرتا ہیں لکھیں جن میں احکام اسلام کی حکمت بیان کی مگر ان کا دائرہ اثر بالکل محدود تھا اور صرف چند لوگ ہندوستان میں ایسے تھے جن پر ان کا اثر ہوا اور اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ شخص قریب میں آنے والا تھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کو ظاہر کرنا تھا۔جب سورج چڑھنے والا ہو تو صبح کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرف نظر نہیں اُٹھا کرتی۔پس مسلمان غافل ہی رہے حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کی زمانہ آگیا اور آپ نے اسلام کے احکام کی حکمت ایسے رنگ میں بیان کی کہ ہر ایک شخص کی سمجھ میں آگئی کہ یہ احکام ہمارے ہی نفع کے لئے ہیں اور دنیا پر یہ حقیقت ظاہر ہو گئی کہ دنیا کی نجات ان قوانین میں نہیں جو نئے نئے بنائے ہیں بلکہ قرآن کی طرف جانے میں ہی ہے۔آپ نے کی