خطبات محمود (جلد 19) — Page 775
خطبات محمود ۷۷۵ سال ۱۹۳۸ء جو بات بن جائے گی اس میں غلطی کا کس قدر امکان ہوگا اور مفہوم کس قدر بدل جائے گا۔پس ی احادیث خواہ وضعی نہ ہوں سچی ہی ہوں پھر بھی ان میں کئی وجوہ سے غلطیوں کا امکان ہے اور وہ اس طرح ہدایت کا موجب نہیں ہو سکتیں جس طرح قرآن جس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک شوشہ محفوظ ہے۔مگر قرآن کی کچھ جگہ تو ان احادیث کو دے دی گئی کچھ اپنے فلسفہ کو اور کچھ رسوم و رواجات کو اور کچھ اپنی ہوا اور خواہشات کو حتی کہ قرآن کے لئے کوئی جگہ ہی باقی نہ رہی اور وہ اُڑ کر آسمان پر چلا گیا۔اس واقعہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن کریم کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔لَا يَبْقَى مِنَ الْقُران إِلَّا رَسْمُهُ له یعنی قرآن باقی نہیں رہے گا صرف اس کے الفاظ رہ جائیں گے۔اور لا یبقی مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسم سے اسلام باقی نہیں رہے گا صرف اس کا نام رہ جائے گا۔قرآن کریم کی صرف سیاہی باقی رہ جائے گی گویا وہ بالکل ایک مُردہ جسم ہوگا اور ظاہر ہے کہ مُردہ جسم کسی کام کا نہیں ہوسکتا۔کسی شخص کے ماں باپ مر جائیں تو کیا وہ اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ ان کا جسم اس کے پاس ہے جب تک وہ بات نہ کریں ، مشورہ نہ دیں ، اگر وہ مذہبی خیالات رکھتے ہیں تو اس کے لئے دعا ئیں نہ کریں اور اگر دنیوی خیالات رکھتے ہیں تو اس کی دنیوی ترقی کے لئے کی کوئی سعی اور کوشش نہ کریں ، اسی طرح جب قرآن کریم کی روح باقی نہ رہی تو وہ جسم بے جان تھا جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کے ذریعہ اس میں پھر روح قائم کی اور قرآن کریم کا وہ علم بخشا جس کی مثال آنحضرت صلی اللہ کی علیہ وآلہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں نہیں ملتی۔آج جو فہم قرآن کریم کا ہمیں حاصل ہے اس کے مقابلہ میں پچھلی تمام تفاسیر بیچ ہیں۔جو علوم خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں انکو پڑھنے والے پرانی تفاسیر کو بغدادی قاعدہ سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ابھی جو بچے ہمارے باہر سے آئے ہیں ان میں سے عزیزم ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ مغرب میں جو لوگ احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں ان پر صرف یہ اثر ہے کہ قرآن کریم کی جو تفسیر ہماری طرف سے شائع ہوتی ہے اس سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم واقعی ایک زندہ کتاب ہے۔پہلے جو لوگ عیسائیت یا دہریت کی طرف مائل تھے وہ جب ہماری پیش کردہ تفسیر دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ اوہو! یہ تو