خطبات محمود (جلد 19) — Page 768
خطبات محمود ۷۶۸ سال ۱۹۳۸ء ہمارے اندر بشاشت ہو تو ہمارا ظرف وسیع ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر جس قد ر فضل اللہ تعالیٰ کی کی طرف سے نازل ہوتے چلے جاتے ہیں ان تمام فضلوں کو ہمارا دل جذب کرتا چلا جاتا ہے بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ فضلوں کا اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے خدایا! مجھے اور دے اور جب خدا تعالیٰ اور فضل نازل کرتا ہے تو وہ اس کو بھی سمیٹ لیتا ہے اور کہتا ہے خدایا! اور دے۔اور چونکہ وہ احکام کی حکمتوں کو ساتھ ساتھ سمجھتا جاتا ہے اس لئے اس کا دل وسیع ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے تمام فضلوں کو سمیٹ لیتا ہے۔گویا جس شخص کے اندر بشاشت ایمانی نہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل ایسے ہی ہیں جیسے امتلاء کے مریض کے منہ میں روٹی ڈالی دی جائے اور اسے قے ہو جائے لیکن جس شخص کے دل میں بشاشت ایمانی موجود ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل ایسے ہی ہیں جیسے ہائیڈروکلورک ایسڈ ڈل کی ایک ڈوز یا چورن کی ایک چٹکی۔اب چورن کی چٹکی بھوک بڑھا یا کرتی ہے گھٹایا نہیں کرتی۔اسی طرح جس شخص کے دل میں بشاشت ہوتی ہے اُس کے اعمال اُس کے لئے چورن بنتے چلے جاتے ہیں مگر جس شخص کے دل میں بشاشت نہیں ہوتی اُس پر خدا تعالیٰ کے فضل ایسے ہی آتے ہیں جیسے امتلاء کے مریض کو کوئی شخص روٹی دے دے ایسے مریض کی روٹی کے کھانے سے بھوک بڑھتی نہیں بلکہ متلی ہو جاتی اور پہلا کھایا پیا بھی باہر آجاتا ہے۔پس اپنے اندر بشاشت ایمانی پیدا کرو اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے انعامات کو اپنے دلوں میں زیادہ سے زیادہ جذب کرنے کے لئے تیار رہو۔اگر تم دیکھتے ہو کہ تم نے پچھلے سال قربانیاں بھی کیں، تم نے نمازیں بھی پڑھیں ،تم نے روزے بھی رکھے تم نے چندے بھی دیئے تم نے حج بھی کیا تم نے زکوۃ بھی دی لیکن باوجود ان کی تمام نیکیوں کے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا تو یقینا تمہیں امتلاء کی تکلیف ہے اور تم میں بشاشت ایمانی نہیں تبھی تمہارا دل شکرہ جاتا ہے اور اسی کے سکڑنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے کمال کے ساتھ تم پر نازل نہیں ہوتی اور جو نازل ہوتی ہے وہ تمہارے انگ نہیں لگتی۔لیکن اگر تمہارے اندر بشاشت ایمانی پیدا ہو جائے تو پھر جتنی زیادہ بشاشت ہوتی چلی جائے گی اتنا ہی تمہارا دل وسیع ہوتا چلا جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فضل نازل ہونگے وہ تمہارے انگ بھی لگیں گے اور تمہیں اپنی نیکیوں کا صریح فائدہ بھی دکھائی دینے لگ جائے گا۔