خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 749 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 749

خطبات محمود ۷۴۹ سال ۱۹۳۸ء کہ گیارہ مہینے انسان حرام چھوڑنے کی مشق کرتا ہے مگر بارھویں مہینے میں وہ حلال چھوڑنے کی مشق کرتا ہے۔یعنی روزوں کے علاوہ دوسرے ایام میں ہم یہ نمونہ دکھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے ہم کس طرح حرام چھوڑ سکتے ہیں مگر روزوں کے ایام میں ہم یہ نمونہ دکھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے کس طرح حلال چھوڑ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حلال چھوڑنے کی عادت پیدا کئے بغیر دنیا میں حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔دنیا میں اکثر فساد اس لئے نہیں ہوتے کہ لوگ حرام چھوڑنے کے لئے تیار نہیں بلکہ اکثر فساد اس لئے ہوتے ہیں کہ لوگ حلال کو بھی ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔وہ لوگ بہت ہی کم ہیں جو نا جائز طور پر کسی کا حق دبائیں مگر وہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ ہیں جو لڑائی اور جھگڑے کو پسند کر لیں گے مگر اپنا حق چھوڑنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔وہ کہیں گے یہ ہمارا حق ہے ہم اسے کیوں چھوڑیں۔سینکڑوں پاگل اور نادان دنیا میں ایسے ہیں جو اپنا حق حاصل کرنے کے لئے دنیا میں عظیم الشان فتنہ و فساد پیدا کی کر دیتے ہیں اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ دنیا کا امن برباد ہو رہا ہے حالانکہ اگر وہ ذاتی قربانی کریں تو دنیا سے جھگڑا اور فساد مٹ جائے اور نہائت خوشگوار امن قائم ہو جائے۔تو رمضان آکر ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم حرام ہی نہ چھوڑو بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے اگر ضرورت پڑ جائے تو حلال یعنی اپنا حق بھی چھوڑ دو تا دنیا میں نیکی قائم ہو اور خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو۔اس لحاظ سے رمضان کو تحریک جدید سے ایک گہری مناسبت ہے۔میں نے صرف ایک کی کھانا کھانے کا اصل تحریک جدید میں شامل کیا ہے۔اب دیکھو دو کھانے حرام تو نہیں ہیں لیکن میں نے تم کو کہا کہ جو چیز حلال ہے اس کو بھی تم چھوڑ دو تا کہ امیر اور غریب کا فرق دور ہو اور تا خدا ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے روپیہ کو بچاتے ہوئے اسے خدمت دین کیلئے خرچ کر سکیں اور تا ہمیں توفیق ملے کہ ہم اپنے نفس کو عیاشی اور آرام طلبی سے بچا سکیں۔یہی کچ رمضان کی غرض ہے۔رمضان بھی یہی کہتا ہے کہ آؤ تم اب خدا تعالیٰ کی خاطر حلال چیز میں چھوڑ دو۔بے شک دوسرا کھانا حرام نہیں ہے مگر ہم نے اسے اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ تا اس کے ذریعہ ہم بہت بڑا دینی اور دنیوی فائدہ حاصل کر سکیں۔سادہ غذا کے استعمال کرنے میں نہ صرف دنیوی لحاظ سے فائدہ ہے بلکہ ہماری روح کا بھی اس میں فائدہ ہے اور وہ خلیج جوغر باء اور امراء میں