خطبات محمود (جلد 19) — Page 73
خطبات محمود ۷۳ سال ۱۹۳۸ء غرض اسلام یہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان میں امتیاز کم ہوا اور محبت اور میل جول زیادہ ہو۔ایک دفعہ ایک نہایت ہی غریب شخص نے میری دعوت کی۔میں گیا۔اُس بے چارہ کے پاس کوئی سامان نہ تھا۔اُس نے ایک چارپائی بچھا دی اور اُس پر مجھے بٹھا کر شور با روٹی جو اسے میسر تھا اُس نے میرے سامنے رکھ دیا۔اتفاق سے ایک باہر کے دوست بھی اُس وقت میرے ساتھ چل پڑے۔جب میں کھانا کھا کر باہر نکلا تو وہ مجھ سے کہنے لگے کہ کیا آپ ایسے غریب کی دعوت بھی قبول کر لیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا اگر میں اس غریب شخص کی دعوت کو قبول نہ کرتا اور انکار کر دیتا تو آپ ہی یہ اعتراض کرنے والے ہوتے کہ یہ امیروں کی دعوت قبول کر لیتے ہیں، غریبوں کی دعوت قبول نہیں کرتے۔مگر اب جبکہ میں نے دعوت قبول کر لی ہے تو آپ کے خیال کی نے یہ صورت اختیار کر لی ہے کہ ایسے غریب کے ہاں کھانا کھانا تو ظلم ہے۔میں نے کہا اس کے کی ہاں کھانا کھانا ظلم نہیں تھا بلکہ انکار کرنا ظلم تھا۔کیونکہ میرے انکار پر یہ ضرور محسوس کرتا کہ میں چونکہ غریب ہوں اس لئے انکار کیا گیا ہے۔پس جو اعتراض اُس دوست نے کیا اُس کے بالکل کی الٹ اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ کوئی ایسی امارت نہ ہو جو غربت کو حقارت کی ج نگاہوں سے دیکھے اور کوئی ایسی غربت نہ ہو جو غریب کیلئے وبالِ جان بن جائے۔یہ خیال بہت ڈور کا ہے۔ایسا ہی دور جیسے دنیا میں جنت کا خیال۔مگر ایک دفعہ اسلام اس مقصد کو پورا کر چکا ہے اور اب دوسری دفعہ اس مقصد کو پورا ہونا ناممکن نہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہم اس عظیم الشان مقصد کیلئے داغ بیل ڈالیں اور اس عظیم الشان محل کی بنیادیں رکھ دیں جس کی تعمیر اسلام کا منشاء ہے۔بیشک ہمارے لئے بہت بڑی دقتیں ہیں۔ہم دوسروں کے محکوم ہیں اور ہمارے لئے ان کے قواعد کی پابندی لازمی ہے اور بعض دفعہ ہماری ایک نیک خواہش کا بھی وہ یہ مفہوم لے لیتے ہیں کہ گویا ہم بادشاہ بننا چاہتے ہیں حالانکہ ہم کی بادشاہ نہیں بلکہ خادم بننا چاہتے ہیں۔لیکن بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے بھی لازمی ہے کہ کوئی قانون جاری کیا جائے۔اس قانون کا نام بادشاہت کی خواہش رکھ لینا انتہائی نادانی اور کی نا واقفیت ہے۔ہماری غرض صرف یہ ہے کہ ایسے اصول دنیا میں جاری کر دیں جن کے ماتحت امارت و غربت کا امتیاز جاتا رہے اور بنی نوع انسان کو نہایت آرام سے خدا تعالیٰ کے ذکر اور