خطبات محمود (جلد 19) — Page 642
خطبات محمود ۶۴۲ سال ۱۹۳۸ء ہیں کہ مسیح زندہ ہو گیا ہے پس اس کی قبر پر پہرہ لگایا جائے۔چنانچہ گورنر نے یہود کے کہنے پر حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر پر پہرے لگا دیئے۔گویا یہودیوں نے بھی حضرت مسیح کے زندہ کی ہونے کی خبر تسلیم کر لی۔اور گورنر روم نے بھی ان کی بات پر اعتبار کر لیا۔اور اس نے ضروری سمجھا کہ آپ کی قبر پر پہرہ لگائے پھر عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہوئے۔مگر انجیل میں صاف لکھا ہے کہ قبر میں سے نکل کر حضرت مسیح لوگوں سے چھپ کر یروشلم میں پھرتے رہے۔انہوں نے اپنے حواریوں کو اپنے زخم دکھائے۔اور کہا کہ میرے ہاتھ پاؤں کو دیکھو کہ میں ہی ہوں اور مجھے چھوڑ اور دیکھو۔کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں۔جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کر انہیں اپنے ہاتھ پاؤں دکھائے۔اور پھر بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ لے کران سے کھایا۔بلکہ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ پھر وہ انہیں ایک پہاڑ پر لے گیا اور برکت دے کر غائب ہو گیا۔پس اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب پر سے زندہ اترے تو تاریخ ہمیں یہ کہنے کا حق دیتی ہے اور ہم صرف یہیں تک بس نہیں کر دیتے کہ ثابت کر دیں وہ مج صلیب پر سے زندہ اُتر آئے بلکہ ہم پھر ان کی بعد کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہیں۔اور کرتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ آخر میں کشمیر میں لا کر ان کی قبر بھی دکھا دیتے ہیں۔اور یہ کی سب کچھ تاریخی شواہد سے ثابت کرتے ہیں۔پس چونکہ اس بحث میں ہم تاریخی تائید اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ہمارے مخالف تاریخی پہلو کو ترک کرتے ہیں اس لئے ہم غالب رہتے ہیں اور وہ مغلوب۔لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام مقتل نہیں ہوئے بلکہ زندہ رہے تھے تو اس سوال کا جواب ہمارے پاس کوئی نہیں کہ پھر ان کے قتل کی خبر کیونکر مشہور ہوئی اور کس طرح ان کے مریدوں ، عیسائیوں اور دوسرے یہود نے اسے صحیح تسلیم کر لیا۔اور یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے ان کی لاش خود دفن کی ہے اور کس طرح اس واقعہ پر پردہ پڑا رہا۔حتی کہ قریب زمانہ بعد میں آنے والے بھی یہی قصہ لکھنے پر مجبور ہوئے۔اور پھر یہ کہ اگر حضرت یحی مارے نہیں گئے تھے کی تو انہوں نے بقیہ زندگی کہاں گزاری اور کہاں چھپے رہے اور کیوں چھپے رہے اور ان کے مرید کیوں ان سے نہ ملتے تھے اور گورنر کو یہ دھو کا کس طرح لگا کہ میرے آدمیوں نے حضرت یحی کو قتل کر دیا ہے۔اور سر جولا یا گیا وہ کس کا تھا۔اور اسے دیکھ کر کیوں نہ ہیرود یاس جو اُن کی دشمن تھی