خطبات محمود (جلد 19) — Page 564
خطبات محمود ۵۶۴ سال ۱۹۳۸ کے صحابہ کا بھی یہ فرض ہے کہ جب وہ کوئی ایسی بات دیکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کے خلاف ہو تو وہ اس کی تردید کریں اور اس بات پر زور دیں کہ اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فلاں بات اس طرح سنی ہوئی ہے اور اب جو بات اس کے خلاف پیش کی جارہی ہے وہ غلط ہے۔بے شک بعض دفعہ کسی ایک صحابی کی رائے رڈ بھی کی جاسکتی ہے۔مثلاً ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی بات کہی تو ایک صحابی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا یہ بات اس طرح نہیں اس طرح ہے کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے۔آپ نے فرمایا اگر تم نے یہ بات آئندہ کسی کے سامنے بیان کی تو میں تجھے کوڑے ماروں گا۔اگر تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقع میں یہ بات سنی ہے تو کوئی گواہ لا۔وہ اُس وقت تو خاموش رہے مگر دوسرے موقع پر وہ ایک اور صحابی کو بطور گواہ کی لائے اور اُنہوں نے بھی یہی بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فرماتے سُنا ہے۔تب آپ نے فرمایا اچھا اب میں تمہاری بات مان لیتا ہوں نے مگر جب تک وہ کوئی گواہ کی نہیں لا سکا تھا آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ ہم تمہاری بات ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ تمہاری اس بیان کردہ روایت کا کوئی اور گواہ نہیں مگر میں کہتا ہوں کیا اس وجہ سے صحابہ کو ڈر جانا چاہئے اور انہیں وہ بات بیان نہیں کرنی چاہئے جو اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے خود سنی ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے یقیناً صحابہ کا فرض ہے کہ جب وہ کوئی ایسی بات سنیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء اور آپ کی تعلیم کے خلاف ہو تو وہ کھڑے ہو جائیں اور اپنی روایات بیان کرنا شروع کر دیں مگر وہ یا درکھیں کہ اس کے بعد ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو جائے گی اور ان کا یہ حق ہر گز نہیں ہو گا کہ وہ اپنا خیال پیش کریں بلکہ ان کا فرض ہوگا کہ وہ وہی بات بیان کریں جو اُنہوں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنی ہو اور جس پر انہیں کامل یقین ہو۔میرے پاس ایک دفعہ ایک دوست آئے اور اُنہوں نے علیحدہ مجلس میں قرآن کریم کی بعض آیات کی تفسیر بیان کرنی شروع کر دی اور کہا کہ ان آیات کی یہ تفسیر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنی ہے۔وہ آدھ گھنٹہ تک بیان کرتے رہے۔کسی موقع پر میں نے