خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 563

خطبات محمود ۵۶۳ سال ۱۹۳۸ء لوگوں کے قلوب میں راسخ کر دیں تو یقینا ہم ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کی ٹھوکر کا موجب بن جائیں گے مثلاً کوئی شخص آج بیان کر دے کہ آئندہ ہندوستان میں کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور کل ہندوستان میں کوئی نبی آجائے تو یقیناً اس نبی کے جتنے منکر ہوں گے ان تمام کا بارِ گناہ اس شخص کی پر ہو گا جس نے یہ کہا تھا کہ آئندہ ہندوستان میں کوئی نبی نہیں آ سکتا۔کیونکہ اس نے ایک ایسی علامت بیان کر دی تھی جو صحیح نہیں تھی اور جس سے لوگوں کو غلطی لگ گئی۔پس اس وجہ سے آئندہ جو بھی ٹھو کر کھائے گا اس کی ذمہ داری اس پر عائد ہوگی جس نے ایک غلط بات لوگوں کے سامنے بیان کی ہوگی۔وہ مضمون جس کے متعلق میں نے اشارہ کیا ہے وہ حضرت بیجی علیہ السلام کے متعلق ہے کہ وہ قتل نہیں کئے گئے۔یہ مولوی ابوالعطاء صاحب کا مضمون ہے اور چونکہ وہ صحابی نہیں ہیں اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سننے کا موقع نہیں ملا اس لئے ان کی طبیعت پر وہ اثر نہیں ہوسکتا جو اُن لوگوں کی طبائع پر اثر ہے جنہوں نے اپنے کانوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنیں۔یقیناً بعد میں آنے والوں کا فرض ہے کہ خواہ وہ سلسلہ کے علماء میں سے ہی کیوں نہ ہوں ایسے مسائل کے متعلق سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کی تحریرات کو دیکھیں پھر آپ کے صحابہ سے ملیں اور ان سے دریافت کریں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے اس مسئلہ کے متعلق اپنی طبائع پر کیا اثر رکھتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ کہیں فلاں مسئلہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ رائے کے لحاظ سے ان کی بھی الصلوة ایک الگ رائے ہوسکتی ہے۔پس ان کا یہ فرض نہیں کہ وہ صحابہ کی رائے دریافت کریں بلکہ ان کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ پوچھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں اُنہوں نے فلاں مسئلہ کے متعلق کیا بات سنی ہے اور ان مجالس کے ماتحت اُنہوں نے کیا اثر قبول کیا ہے۔اگر بعد میں پیدا ہونے والے لوگ صحابہ سے فائدہ نہیں اُٹھا ئیں گے تو ایک ایسی غلط بنیاد قائم ہو جائے گی جو سلسلہ کے لئے آئندہ زمانہ میں نہایت خطرناک اور تباہ کن نتائج کی حامل ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے زمانہ مین ایسا ہی ہوا کرتا تھا اور میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام