خطبات محمود (جلد 19) — Page 532
خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۳۸ء نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اس طرح نفاق نہ کرو جس طرح موسیٰ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے نفاق کیا اور آپ کو ان کے افعال سے اذیت پہنچی ہے مگر کر نے والوں نے اسی طرح نفاق کیا۔پھر اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ آیا تو وہی کچھ جو پہلے انبیاء کے زمانہ میں ہوتا رہا اب ہو رہا ہے اور جس طرح پہلے منافق اعتراض کیا کرتے تھے اسی طرح موجودہ زمانہ کے منافق اعتراضات کرتے نظر آتے ہیں۔66 میں نے ایک پچھلے خطبہ جمعہ میں منافقوں کی بعض علامات بتائی تھیں اور جماعت کے دوستوں کو سمجھایا تھا کہ منافق کون ہوتا ہے اور اس کی کیا کیا علامتیں ہوتی ہیں۔اس پر مجھے ایک منافق کا ایک گمنام خط آیا۔یہ شخص پہلے بھی کئی دفعہ ایسے خط لکھ چکا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ یہ مصری پارٹی کا کوئی فرد ہے مگر خطوں میں ہمیشہ مصری صاحب کو کمبخت مصری “ لکھا کرتا ہے لیکن بات وہی کرتا ہے جو مصری پارٹی کرتی ہے۔پھر نہ معلوم اس کا کم بخت“ کہنا کیا معنے رکھتا ہے اگر تو وہ انہی میں سے ہے تو یہ اول درجہ کی بے حیائی ہے کہ ان میں سے ہوتے ہوئے کمبخت مصری لکھتا ہے۔اور اگر ان میں سے نہیں تو یہ اول درجہ کا پاگل ہے کہ بات تو وہی کہتا ہے جو مصری پارٹی کہہ رہی ہے مگر پھر انہیں ”کم بخت کہتا ہے۔تو کئی خطوط اس گمنام خط بھیجنے والے کے میرے نام آئے ہیں۔میں کئی خطوط اس لئے کہتا ہوں کہ یہ خود بھی اپنے اس خط کی میں تسلیم کرتا ہے کہ پہلے جو خط آپ کو ملے ہیں وہ بھی میرے ہی ہیں۔دوسرے ان تمام خطوط کا طرز تحریر آپس میں ملتا ہے۔وہ اس خط میں اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے۔دیکھو تم نے منافقوں کے متعلق ایک خطبہ پڑھا مگر تم نے یہ نہ سمجھا کہ منافقت کا دائرہ تم نے اتنا وسیع کر دیا ہے کہ اب کوئی مومن رہ ہی نہیں سکتا بلکہ ہر شخص پر نفاق کا شبہ ہوسکتا ہے۔حالانکہ میرا مضمون کیا تھا ؟ میرا مضمون یہ تھا کہ منافق چار قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جو کسی ڈر یا لالچ کے ماتحت ایک مذہب میں داخل ہو جاتے ہیں ورنہ ایمان ایک دن بھی اُن کے دلوں میں داخل نہیں کی ہوتا وہ کفر کی حالت میں پیدا ہوتے ، کفر کی حالت میں اسلام میں داخل ہوتے اور کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں۔اب بتایا جائے وہ کون سے مؤمن اور مخلص ہیں جو اس تعریف کے اندر آجاتے ہیں۔آیا بعض مؤمن اور مخلص بھی ذاتی فوائد کے لئے الہی سلسلہ میں داخل ہو ا کرتے ہیں