خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۸ کم لوگوں نے دیکھا ہوگا۔انتہاء درجہ کی تباہی ہوئی۔میں نے انفلوئنزا کی تباہی بھی دیکھی ہے۔آپ بھی کئی بار بیمار ہوا ہوں مگر ایسا تکلیف دہ نظارہ کبھی نہیں دیکھا۔ہاں تو مکہ پہنچ کر اس خیال سے کہ یہ مواقع کہاں ملتے ہیں میں نے وہاں تبلیغ شروع کر دی۔مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی وہاں تھے مجھے اطلاع ملی کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ مباحثہ کیا جائے۔ہمارے ایک رشتہ دار تھے جو نانا جان مرحوم کی ہمشیرہ کے بیٹے تھے اور اس لحاظ سے ہمارے ماموں تھے وہ بھی اہلحدیث خیال کے تھے اور مولوی ابراہیم صاحب کے مداحوں میں سے تھے۔وہ بھی کوشش کرتے تھے کہ مناظرہ ہو جائے۔ان کا خیال تھا کہ یہاں با قاعدہ حکومت کوئی نہیں اگر مباحثہ ہوا تو لوگ انہیں مار ڈالیں گے اور اس طرح ایک کانٹا نکل جائے گا لیکن وہاں اہلحدیثوں کو لوگ سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔جب مولوی ابراہیم صاحب کی آمد کا چرچا ہوا تو انہیں خود وہاں سے جلد بھا گنا پڑا۔شریف کے بیٹوں کے ایک استاد تھے جن کا نام عبد الستار تھا بہت شریف آدمی تھے۔میں ان سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ میں خود بھی اہلحدیث ہوں اور یہ تعلیم کا کام میں اس لئے کرتا ہوں کہ چھپا رہوں اس پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے میرے خلاف کوئی شخص شرارت کرنے کی جرات نہیں کرتا۔میری باتیں سن کر کہنے لگے کہ باتیں تو بہت معقول ہیں لیکن میرے سوا کسی اور سے یہ نہ کریں ورنہ آپ کی جان کی خیر نہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کسی کے ساتھ یہ باتیں کرنے میں ہمارے لئے زیادہ خطرہ سمجھتے ہیں اور اس لئے چاہتے ہیں کہ اس سے ہرگز یہ باتیں نہ کریں۔وہ کہنے لگے کہ فلاں شخص سے ہرگز نہ کرنا۔میں نے کہا کہ اسے میں تو پورا ایک گھنٹہ تبلیغ کر کے آیا ہوں۔پوچھنے لگے۔پھر کیا ہوا میں نے کہا کہ میں تبلیغ کرتا رہا اور وہ غصہ کا اظہار کرتا رہا۔کبھی کبھی جوش میں آکر یہ بھی کہہ دیتا کہ افسوس نہ ہوئی تلوار ور نہ سر اُڑا دیتا۔اپنے جس رشتہ دار کا میں نے ذکر کیا وہ خوب شور مچاتے پھرتے تھے کہ یہ واجب القتل ہیں۔یہ بھو پال کے رہنے والے تھے۔ان کے ساتھ وہاں کے ایک اور شخص بھی جو بھو پال ہی کے رہنے والے اور نواب صدیق حسن خاں کے نواسے تھے شامل تھے۔لیکن اُدھر ج ختم ہوا اور ادھر ہیضہ پھوٹ پڑا۔ہمارا بھی ارادہ ہو گیا کہ جدہ چلے جائیں اور آخری ملاقات کے لئے ان سے ملنے کے لئے گئے۔جب مکان پر پہنچے تو کیا دیکھا کہ مکان پر لوگ جمع