خطبات محمود (جلد 19) — Page 491
خطبات محمود ۴۹۱ سال ۱۹۳۸ء ان سے بالکل جاتا رہا ہے اس لئے اب ہمارا حق ہو گیا ہے کہ ہم تمہیں منافق کہیں۔تو یہ دوسری قسم کی منافقوں کی ہے یہ ایسے احمق ہوتے ہیں کہ ایک طرف اپنی مجالس میں جماعت اور نظام کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور دوسری طرف جب کوئی مؤمن ان سے ملے اور کہے کہ آپ خلیفہ اسیح تک بات کیوں نہیں پہنچاتے تو وہ کہہ دیتے ہیں ہم خواہ مخواہ بات بڑھانا نہیں چاہتے۔ان کی مثال بالکل اُس بے وقوف کی سی ہوتی ہے جو ایک قتل کے مقدمہ کے سلسلہ میں ایک - دفعہ کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو مجسٹریٹ نے مقدمہ سننے کے بعد اسے پھانسی کی سزا کا حکم دے دیا۔اس نے لوگوں سے پوچھا کہ میرے متعلق کیا فیصلہ ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ تجھے پھانسی کی سزا کا حکم ملا ہے۔یہ سن کر وہ بولا کہ اس سے تو موت کی سزا اچھی تھی۔اسی طرح یہ لوگ کرتے ہیں ایک طرف تو فتنہ کرتے جاتے ہیں دوسری طرف فتنہ کے خلاف اظہار نفرت بھی کرتے جاتے ہیں حالانکہ جس رنگ میں وہ کمائیاں بیان کرتے ہیں اسی کا نام تو فتنہ ہے۔مگر جب ان سے کہا جائے کہ خلیفہ امسیح سے ان کا ذکر کیوں نہیں کرتے تو بڑے مصلح بن جائیں گے اور کہیں گے ہم کوئی فتنہ پیدا کرنا نہیں چاہتے اگر شکایت کی تو وہ کیا کہیں گے۔ہماری جماعت میں بھی ایسے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں حالانکہ ان کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ فتنہ پیدا کرنا ہوتا ہے اور اندر ہی اندر وہ اس لئے شرارتیں کرتے رہتے ہیں کہ اگر عَلَی الْإِعْلَان غیروں سے مل گئے تو وہ کہیں گے کہ اب جھک مار کر واپس آیا ہے پہلے خیال نہ آیا تھا کہ ایسے لوگوں میں نہیں ملنا کی چاہئے۔پس وہ خدا کے لئے نہیں بلکہ اپنی عزت کے خیال سے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں یا اس وجہ سے شامل رہتے ہیں کہ انہیں ایک سوسائٹی ملی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے دوستوں کا ایک حلقہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم علیحدہ ہوئے تو یہ سوسائٹی ہمارے ہاتھ سے جاتی رہے گی۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب انسان پہلوں سے قطع تعلق کر کے آتا ہے تو اسے نئی جماعت میں نئی سوسائٹی ملی جاتی ہے ، نئے محبت کرنے والے مل جاتے ہیں ، نئے پیار کرنے والے مل جاتے ہیں اور چونکہ ان کا چھوڑ نا مشکل ہوتا ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ ظاہری طور پر ملے رہیں اور اندرونی طور پر شرارتیں کرتے رہیں۔پہلوں سے اگر انہوں نے قطع تعلق کیا تھا تو اس لئے کہ اُس وقت ان میں ایمان کی کشش تھی اور اب اگر یہ قطع تعلق کرنے سے ڈرتے ہیں تو اس لئے کہ ان میں نفاق