خطبات محمود (جلد 19) — Page 490
خطبات محمود ۴۹۰ سال ۱۹۳۸ء ہماری جماعت کے بعض لوگ غلطی سے صرف انہی کو منافق سمجھتے ہیں کسی اور کو نہیں اسی لئے جب کسی کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ منافق ہے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں اُس نے تو فلاں وقت اتنی کی قربانی کی تھی وہ منافق کس طرح ہو سکتا ہے مطلب ان کا یہ ہوتا ہے کہ چونکہ اُس نے فلاں وقت قربانی کی اس لئے وہ منافق نہیں حالانکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قسم منافقوں کی ایسی بھی ہے جو ایمان اور اخلاص سے سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ، سلسلہ کے لئے مختلف رنگوں کی میں قربانیاں بھی کرتے ہیں مگر پھر گر جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان منافقوں کا ذکر سورۃ توبہ میں کرتا ہے۔فرماتا ہے لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ لا فرماتا ہے۔تم ہمارے سامنے غذ رمت کرو۔قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ ايْمَانِكُمْ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ پہلے تم بھی مومن تھے مگر کچھ عرصہ کے بعد بعض رنجشوں ، بدگمانیوں اور کمزوری اعمال کی وجہ سے تمہارے دل پر زنگ لگتے لگتے آخر ایمان بالکل جاتا رہا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی ہی کہ اب تمہارے دل میں کوئی ایمان نہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ایمان تم یقیناً لائے تھے اور جس وقت تم خدا تعالیٰ کے سلسلہ میں داخل ہوئے تھے اخلاص اور محبت سے داخل ہوئے تھے اور اسی ایمان کے باعث تم نے نمازیں بھی پڑھیں، روزے بھی رکھے ، چندے بھی دیئے ، زکوۃ بھی دی ، حج بھی کیا ، قربانیاں کی بھی کیں ، یہ ٹھیک بات ہے۔ایمان جو تم لائے تھے ایمان لانے کے بعد انسان ایسا ہی کیا کرتا ہے مگر کسی وجہ سے ( یہاں وجہ نہیں بتائی وہ وجوہات اور جگہ بیان ہیں ) ایمان لانے کے کچھ عرصہ بعد تم میں کفر پیدا ہونا شروع ہوا اور ہوتے ہوتے تم منافق ہو گئے۔اگر تم اُسی وقت جب سے تمہارے دل میں کفر پیدا ہونا شروع ہوا تھا کہہ دیتے کہ ہم تم میں شامل نہیں رہنا کی چاہتے ہمیں اب شبہات پیدا ہو گئے ہیں مگر چونکہ تم نے کفر کو ظاہر نہیں کیا تم نے اپنے دلوں میں کہا کہ اب جس فرقہ میں ہم مل گئے ہیں اسی میں ملے رہیں اگر ہم علیحدہ ہوئے تو ہماری سبکی اور کی ذلّت ہوگی اور تم ایک طرف تو یہ کہتے رہے کہ ہم جماعت میں فتنہ نہیں ڈالنا چاہتے اور دوسری طرف جب کوئی ملتا تو اُسے کہتے کہ جماعت میں یہ یہ خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں، اس کے افراد نہایت گندے ہو گئے ہیں ، ان کے اخلاق نہایت خراب ہو گئے ہیں ، روحانیت اور ایمان