خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 489

خطبات محمود ۴۸۹ سال ۱۹۳۸ء گھر کے اخراجات کے لئے اس روپیہ کو استعمال کروں تو پہلے چندہ دے کر آؤ مجھے رسید دکھاؤ۔چنانچہ وہ گیا اور چندہ دے آیا۔اُس کے بعد اس کی ایسی عادت ہو گئی کہ وہ تنخواہ گھر میں اُس وقت تک نہ لا تا جب تک کہ چندہ ادا نہ کر لیتا۔تو یہ منافقت کی علامت نہیں کمزوری کی علامت کی ہے۔ایسے آدمی کو کوئی دوسرا نصیحت کرے گا تو وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ثواب کے مستحق ہوں گے۔میری مراد اس جگہ منافق سے ایسے شخص سے ہے جو دل سے خدا تعالیٰ کی راہ میں روپیہ خرچ کرنا پسند نہیں کرتا وہ ست نہیں ہے بلکہ دل میں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے لئے چندہ دینا کی بے فائدہ ہے۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے اُس کو میں منافق کہتا ہوں ورنہ کمزور ہونا اور چیز ہے آخر سارے مؤمن ایک درجہ کے تو نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کم سے کم حصہ وصیت کا 1/1 قرار دیا ہے اب جو شخص 1/10 حصہ کی وصیت کرتا ہے ہم اُسے منافق نہیں کہتے۔ہم سمجھتے ہیں کسی کا کم ایمان ہے اور کسی کا زیادہ۔جس کے اندر تھوڑا ایمان ہے اس نے کی دسویں حصہ کی وصیت کر دی اور جس کے اندر زیادہ ایمان ہے اُس نے زیادہ کی وصیت کر دی۔تو جس کو میں منافق کہتا ہوں وہ تو وہی شخص ہے جو دل سے چندہ دینا نا پسند کرتا اور جس مذہب میں بھی وہ شامل ہے اُس کے لئے روپیہ خرچ کرنے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔میرا ان کی الفاظ کے کہنے سے یہ مطلب ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ منافق صرف بچے مذہب میں پائے جائیں بلکہ ایک ہندو بھی منافق ہو سکتا ہے، ایک سکھ بھی منافق ہو سکتا ہے اور ایک عیسائی بھی منافق ہو تی سکتا ہے۔ہند و منافق وہ ہوگا جو ہندوؤں سے غداری کرے ، سکھ منافق وہ ہوگا جو سکھوں سے منافقت کرے اور عیسائی منافق وہ ہوگا جو عیسائیوں سے غداری کرے۔ہاں جو بچے دین سے منافقت کرے گا اُس سے خدا بھی ناراض ہوگا اور جو دوسروں سے منافقت کرے گا اُسے اس منافقت کا صرف دنیوی نقصان ہوگا اور یوں اُس کے اخلاق پر بھی بُرا اثر پڑے گا۔اللہ تعالیٰ کی کی ناراضگی صرف اس کے اتنے فعل سے اسے نہیں ہو سکتی کیونکہ اُس کا امتحان اصولی سچائیوں کی بناء پر ہوگا نہ کہ تفصیلی احکام کی بناء پر۔دوسری قسم کے منافق قرآن کریم سے وہ معلوم ہوتے ہیں جو اسلام کو سچا سمجھ کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور انہیں ابتداء میں یہی یقین ہوتا ہے کہ یہ مذہب سچا ہے مگر بعد میں ان کے دلوں میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔پہلی قسم کے منافق جو میں نے بتائے ہیں