خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 376

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ کہ مرد کو اپنی بیوی کے لئے غیرت پیدا ہوئی تو بیوی کے لفظ سے مراد اس کی موجودہ بیوی اور سابقہ بیوی دونوں ہو سکتی ہیں اور اس طرح یہ غیرت جائز بھی ہو سکتی ہے اور نا جائز بھی۔اگر تو اس کی بیوی ناجائز طور پر کسی غیر مرد کے پاس بیٹھی ہو تو یہ غیرت ایک ناجائز فعل کے لئے ہے لیکن اگر وہ بیوی مطلقہ ہو اور اس نے دوسرے سے شادی کر لی ہو اور سابق خاوند کو اس پر طیش آیا ہو تو اس صورت میں یہ غیرت ایک جائز فعل کے خلاف ہوگی۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ عورت کو خاوند پر غیرت پیدا ہوئی۔یہ بھی بعض دفعہ جائز فعل پر ہوتی ہے اور بعض دفعہ ناجائز پر اگر تو بدی کی سی نیت سے کسی غیر عورت کے پاس بیٹھا ہوتو یہ غیرت ناجائز فعل کے لئے ہوگی لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی دو بیویاں ہیں اور جب وہ اپنی ایک بیوی کے پاس بیٹھا ہو، دوسری پر یہ گراں گزرے یہ بھی غیرت کہلاتی ہے مگر یہ غیرت جائز فعل کے خلاف ہوتی ہے۔قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔لیکن حدیثوں میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ ناجائز محبت پر اظہار نا پسندیدگی کے معنوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے بھی آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے سب سے زیادہ غیرت والا ہے۔اس امر میں کہ وہ اس کی محبت کو چھوڑ کر کسی اور سے لو لگا لیں یا گویا وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بندے کسی دوسری طرف جائیں۔چاہے وہ جانا شرک کے رنگ میں ہو یا فسق و فجور کے رنگ میں۔اور پھر ایک اور جگہ حدیث میں یہ جائز فعل کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔حضرت اُم سلمہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی خواہش کی تو انہوں نے جواب دیا کہ یا رَسُول اللہ ! میرے کئی بچے ہیں جن کے پالنے کا مجھے خیال ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ میں غیرت والی ہوں ہے اس کے یہ معنے نہیں کہ نَعُوذُ بِاللَّه رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کسی نا جائز فعل کا انہیں خیال تھا بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی اور بھی بیویاں ہیں اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرا خاوند کسی اور عورت کے پاس بیٹھے۔اس حدیث میں یہ لفظ ایسے موقع پر استعمال ہوا ہے کہ ناجائز فعل کا کوئی امکان ہو ہی نہیں سکتا مگر یہ لفظ اردو میں ان معنوں سے بہت کم استعمال ہوتا ہے۔زیادہ تر انہیں معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ مثلاً کہتے ہیں تمہارے باپ کو گالیاں دی جا رہی تھیں تمہیں غیرت نہ