خطبات محمود (جلد 19) — Page 375
خطبات محمود ۳۷۵ سال ۱۹۳۸ء اس سوال کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ یہ ہے کہ قادیان کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اہل کے متعلق گالیاں برداشت کر لیتے ہیں یہ بے غیرتی ہے اور جواب کے لئے پہلے میں اسی حصہ کو لیتا ہوں۔بے غیرتی اور اس کے مقابل کا لفظ غیرت جو ہے اس کا ماً خذ عربی زبان ہے۔بے غیرتی کی ترکیب ہم نے فارسی طرز پر بنالی ہے۔مگر دراصل یہ عربی لفظ ہی ہے اور اس کے معنے وہی ہیں۔یعنی عدم غیرت یا فقدانِ غیرت۔یا قلت غیرت۔غیرت کا نہ پایا جانا یا جاتے رہنا یا کم ہونا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ غیرت عربی زبان کا لفظ ہے اور ہماری زبان میں اس کا غلط استعمال ہونے لگا ہے۔عربی میں اس کے وہ معنی نہیں جن معنوں میں ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔عربی میں غیرت کے معنی یہ ہیں کہ کسی اپنی چیز کا جائز یا ناجائز طور پر دوسرے کے قبضہ یا استعمال میں آنا اور اس استعمال کی برداشت نہ کر سکنا، لیکن ہم لوگ جب بے غیرتی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو بعض ناجائز افعال کے لئے کرتے ہیں۔بے شک ان معنوں کی رو سے بھی کرتے ہیں جو عربی میں ہیں لیکن زیادہ تر یہی معنی لئے جاتے ہیں کہ کوئی ناجائز فعل ہو رہا ہو اور اس پر اظہار نفرت یا غضب نہ کیا جائے اور جب ایسے فعل پر اظہار نفرت یا غضب کیا جائے تو اسے غیرت کہتے ہیں۔بعض دفعہ لفظوں کے غلط استعمال سے بھی حقیقت پوشیدہ ہو جاتی ہے۔ہم ایک غلط لفظ بولتے ہیں اور ہماری مراد اور مطلوب نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن اگر صحیح لفظ بولیں تو اصل مقصد سامنے رہتا ہے اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنے مقصد اور مطلب کو صحیح طور پر ادا کر رہے ہیں یا غلط۔اور اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ لفظ غیرت کی وضاحت کر دوں اور بتا دوں کہ عربی میں غیرت سے کیا مراد ہوتی ہے اور جن معنوں میں ہم اس کا استعمال کرتے ہیں ، ان کے لئے صحیح لفظ کیا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عربی میں غیرت کے معنی یہ ہیں کہ اپنی کوئی محبوب چیز جائز یا ناجائز طور پر کسی دوسرے کے پاس چلی جائے اور اس کے خلاف دل میں غصہ، نفرت اور بے چینی پیدا ہو۔عام استعمال اس کا یہ ہے کہ مثلاً کہیں گے مرد کو اپنی بیوی کے لئے غیرت پیدا ہوئی۔یا بیوی کو اپنے خاوند کے لئے غیرت پیدا ہوئی۔اور جب ہم یہ کہتے ہیں کی