خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 358

خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۸ء ہونی چاہئے مگر چونکہ وہ گنہگار نہ تھے اس لئے معلوم ہوا انہوں نے اپنے ماننے والوں کے گناہ اپنے سر پر اٹھالئے اور ان پر ایمان لانے والوں کے گناہ اس طرح معاف ہو گئے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ بے شک تکلیف گناہ کے نتیجہ میں بھی آتی ہے لیکن ہر تکلیف گناہ کے نتیجہ میں نہیں کی آتی۔بعض تکالیف قوانین طبیعت کی خلاف ورزی سے آتی ہیں ، بعض قوانین طبیعت کے مخالف اجتماع سے آتی ہیں ، بعض تکالیف محض ایک تکلیف پانے والے کے قرب میں بیٹھے ہونے کے سبب آتی ہیں ، بعض تکالیف انسان کے اعلی اندرونی قومی کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس شخص کی کی قیمت لوگوں پر ثابت کرنے کے لئے آتی ہیں ، بعض تکالیف اس لئے آتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دور کر کے اپنی قدرت کو ظاہر کرے۔غرض تکالیف کا فلسفہ ایک وسیع فلسفہ ہے اور سب تکالیف ایک ہی سبب کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتیں مگر مسیحیوں نے ان تمام اسباب کو نظر انداز کر کے ایک ہی سبب قیاس کر کے اس پر اپنے عقیدہ کی بنیاد رکھ دی اور حضرت مسیح ناصری کے صلیبی واقعہ کو امتیوں کے گناہوں کی سزا قرار دے دیا۔تو دوست بھی ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں لیکن عام طور جی پر دشمن بوجہ دشمنی کے اور بوجہ اس کے کہ تعصب کی پٹی ان کی آنکھوں پر بندھی ہوتی ہے ایک سبب جو بُرا ہوتا ہے لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فلاں فعل کا یہی سبب ہو گا۔یہ خیال نہیں کرتے کہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی اور سبب ہو۔جس کی وجہ سے وہ فعل جس پر وہ معترض ہیں برا نہ رہے۔مجھے اس کی پر زیادہ زور دینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ میں دیکھتا ہوں ہمارے دوستوں میں سے بھی کئی ایسے ہیں جو واقعات کو دیکھ کر قیاس کر لیتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس کا سبب ضرور فلاں امر ہے حالانکہ ایسے موقع پر انسان کا قیاس سے نتیجہ نکالنا بسا اوقات اسے گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ اَكْذَبُ الْحَدِيثِ لے گمان سے اور خیالی باتوں سے بچ کیونکہ خیال تجھ کو اکثر جھوٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔تو واقعات کے بارہ میں اربعہ لگا کر نتیجہ نکالنا بڑا خطرناک راستہ ہے اور ا کثر دفعہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔گو کبھی درست نتیجہ بھی نکل آتا ہومگر چونکہ طریقہ غلط ہے، نتیجہ درست بھی ہو تو بھی انسان بدظنی کے گناہ کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی کتاب میں مجرم لکھا جاتا ہے۔ہمیں قیاس اُسی حد تک کرنا چاہئے جس حد تک