خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 359

خطبات محمود ۳۵۹ سال ۱۹۳۸ء بات ہے۔اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔اسلام کے جو محقق فقہا ء گزرے ہیں ، انہوں نے تو اس مسئلہ پر اتنا زور دیا ہے کہ اسے کمال تک پہنچا دیا ہے۔مثلاً ان میں اس بات پر بخشیں ہوئی کی ہیں کہ اگر شریعت نے کسی بات کے متعلق قسم رکھی ہو اور دوسرا شخص قسم نہیں کھا تا مگر جس کے مقابلہ میں وہ کھڑا ہے وہ قسم کھا لیتا ہے تو اس کے متعلق کیا فیصلہ کیا جائیگا۔محققین فقہاء نے کہا ہے کہ دوسرے شخص کو اس وجہ سے کہ اس نے قسم نہیں کھائی ہم مجرم قرار نہیں دیں گے بلکہ اسے اس کی وقت تک بند رکھیں گے جب تک وہ قسم نہیں کھاتا یا اقرار نہیں کرتا۔اگر وہ نہ قسم کھائے اور نہ اقرار کرے تو اسے قید تو رکھیں گے مگر اس جرم کی شرعی سزا کا مستوجب اسے قرار نہیں دیں گے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے قسم نہ کھانے سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں اصل واقعہ کا پتا نہیں لگا۔یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پتہ لگ گیا ہے۔مثلاً میاں بیوی میں ملاعنہ کی صورت ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے یا بیوی خاوند پر الزام لگائے اور ان کے پاس سوائے اپنی عینی شہادت کے اور کوئی گواہ موجود نہ ہوں تو پھر میاں بیوی کے درمیان ملاعنہ ہوگا اور چار چار گواہوں کی جگہ اُن سے چار چار دفعہ قسمیں لی جائیں گی۔سے اب اگر مرد قسم کھا جائے مگر عورت نہ کھائے تو فقہاء نے بحث کی ہے کہ اس صورت میں کیا کیا جائے۔بعضوں نے کہا ہے کہ جس نے قسم نہیں کھائی ہم اسے مجرم سمجھیں گے۔مگر بہتوں نے کہا ہے کہ ہم اسے مجرم نہیں سمجھیں گے بلکہ اس وقت تک اسے قید رکھیں گے کی جب تک وہ قسم نہ کھائے یا اقرار نہ کرے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اس فعل سے شبہ پیدا ہوتا ہے، مجرم ثابت نہیں ہوتا۔تو قیاس سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ ممکنات کئی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ضد میں آکر انسان کہ دیتا ہے کہ میں قسم نہیں کھاؤں گا اور بعض دفعہ کسی اور وجہ سے قسم نہیں کھاتا۔پس وہ کہتے ہیں کہ ایسی حالت میں ہم اسے صرف قید رکھیں گے۔کسی نے کہا کہ قید کیوں کرو گے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ اس لئے کہ شریعت کہتی ہے قسم کھاؤ اور چونکہ اس نے قسم نہیں کھائی اس لئے ہم اسے شریعت کی نافرمانی کا مجرم تو قرار دے سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ قسم نہ کھانے کی وجہ سے وہ جرم ثابت ہو گیا ہے جس کے فیصلہ کرنے کے لئے قسم رکھی گئی تھی۔ہمارے دشمنوں نے بھی صرف یہ دیکھ کر کہ میاں عزیز احمد صاحب جو ایک غریب آدمی تھے