خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۸ء یونہی کہی ہے لیکن اگر واقع میں اس رئیس کے ہاں اتفاقاً کوئی دعوت ہوئی تو پھر میں تو اس سے محروم رہوں گا اور اس کا کیا فائدہ کہ لڑکوں سے مار بھی کھائی اور دعوت سے بھی محروم رہا۔چنانچہ اس خیال کے آتے ہی وہ خود بھی اس رئیس کے مکان کی طرف بھاگ پڑتا۔اس حکایت سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اچھی چیز سے ہر شخص حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے خواہ وہ خیالی اور وہمی ہی کیوں نہ ہو۔کجا یہ کہ ہم سچ مچ ایک نہایت ہی قیمتی چیز لوگوں کے سامنے رکھ دیں اور وہ اس کو لینے کیلئے تیار نہ ہوں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ تعلیم دی ہے جس سے بہتر اور کوئی تعلیم نہیں کی اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب دی ہے جس سے بہتر اور کوئی کتاب نہیں۔چنانچہ دیکھ لو د نیا اس تعلیم کی مخالفت بھی کرتی ہے مگر آخر چکر کھا کھا کر اسی جگہ پہنچتی ہے جس جگہ اسلام بنی نوع انسان کو لا نا چاہتا ہے۔آخر وہ کون سی اسلامی تعلیم ہے جس کی دنیا نے مخالفت کی مگر پھر دوسرے وقت اس نے اس کو اختیار نہیں کیا۔مسئلہ طلاق کی یورپ نے اتنی شدید مخالفت کی تھی کہ مسلمانوں نے اس سے متاثر ہو کر ایسی کی کتابیں لکھنا شروع کر دیں جن میں یہ ظاہر کیا کہ طلاق اسلام میں جائز نہیں۔یہ پہلے زمانہ کے لوگوں کے حالات کی وجہ سے مجبوراً جاری کی گئی تھی ورنہ طلاق دینا حقیقتاً جائز نہیں لیکن آج یورپ کے رہنے والے خود طلاق کی ضرورت کو تسلیم کر چکے ہیں اور آئے دن عدالتوں میں طلاق کی درخواستیں پیش ہوتی رہتی ہیں اور عدالتیں اپنے حکم سے طلاق دلوا دیتی ہیں۔اسی طرح ایک کی سے زیادہ شادیاں کرنے کا مسئلہ ہے۔یورپ نے اس پر ایک لمبے عرصہ تک اعتراضات کئے مگر آج یورپ میں ایک سے زیادہ شادیوں کی تائید میں مضامین لکھے جاتے ہیں اور مضامین لکھنے والے بڑے بڑے فلاسفر ہوتے ہیں۔اسی طرح حرمت سود کی ایک عرصہ تک یورپ نے کی مخالفت کی اور کہا کہ سود کے بغیر تجارتیں نہیں چل سکتیں مگر آج اسی یورپ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سود کو بین الاقوامی مناقشات کی اصل جڑ قرار دیتے ہیں۔اسی طرح شراب سے اسلام نے روکا اور مغرب نے اس پر اعتراض کیا مگر آج امریکہ میں شراب کو سخت نا پسند کیا جاتا ہے بلکہ کچھ سال تو اس نے قانوناً شراب پینے اور فروخت کرنے کی ممانعت کر دی تھی۔آج کی ہندوستان میں بھی کانگرسی حکومت شراب نوشی کے خلاف زبر دست جد و جہد کر رہی ہے حالانکہ