خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 314

خطبات محمود ۳۱۴ سال ۱۹۳۸ء افراد ہیں انہیں اٹھتے بیٹھتے ہمیشہ ہماری مخالفت کا خیال رہتا ہے لیکن الفضل میں تم نے کئی بار ایسے مضامین پڑھے ہوں گے اور جو واقف ہیں وہ ذاتی طور پر اس سے بھی زیادہ جانتے ہیں کہ جو آواز ہمارے مرکز سے اٹھائی جائے سب سے پہلے وہ لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں مگر سال دو سال کے بعد اسی کی نقل کرنی شروع کر دیتے ہیں۔پہلے تو انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید ہم مخالفت کر کے انہیں ناکام اور ذلیل کر دیں مگر جب دیکھتے ہیں کہ وہ نا کام اور ذلیل نہیں کر سکے تو آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ کام تو بڑا اچھا ہے۔اگر ہم نے اسے اختیار نہ کیا تو اس کے فوائد سے ہم محروم رہیں گے اور یہ جماعت ہم سے بڑھ جائے گی۔چنانچہ وہ پھر اسی کی نقل میں خود وہ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔سچ تو الگ رہا دنیا میں جھوٹ کے طور پر بھی اگر کوئی اچھی بات بتائی جائے تو لوگ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔عربوں میں ایک مثل مشہور ہے جب انہوں نے یہ کہنا ہو کہ فلاں شخص بڑا حریص ہے تو کہتے ہیں کہ وہ فلاں لڑکے کی طرح حریص ہے۔کہتے ہیں کہ کوئی لڑکا تھا جو نہایت ہی سادہ مزاج تھا مگر اسے کی کھانے پینے کا بڑا شوق تھا۔لڑکے اس سے ہمیشہ ہنسی مذاق کرتے اور اس قدر چھیڑ تے کہ وہ تنگ آجاتا اور دق ہو کر اپنا پیچھا چھڑانے کیلئے ان سے کہہ دیتا کہ آج فلاں عرب رئیس کے ہاں کی بڑی بھاری دعوت ہے۔وہ سمجھتا تھا دعوت کا میں نے ذکر کیا تو یہ تمام لڑکے ادھر بھاگ جائیں گے اور مجھے چھوڑ دیں گے۔چنانچہ وہ سب اسے چھوڑ کر اس رئیس کے مکان کی طرف چلے جاتے۔بعد میں اسے خیال آتا کہ میں نے انہیں کہا تو جھوٹ موٹ ہی ہے مگر کیا پستہ شاید واقع میں اس نے کسی دعوت کا انتظام کیا ہوا ہو۔اس صورت میں یہ تمام لڑکے کھانا کھا کر آجائیں گے اور میں محروم رہ جاؤں گا۔چنانچہ اس خیال کے آتے ہی وہ خود بھی اس رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتا۔اتنے میں وہ لڑکے غصہ میں بھرے ہوئے واپس آرہے ہوتے تھے کیونکہ وہاں دعوت کی تو کوئی ہوتی نہ تھی۔نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ اسے پکڑ لیتے اور پھر تنگ کرنا اور پیٹنا شروع کر دیتے۔وہ کی کہتا اصل بات یہ ہے کہ میں نے تم سے ٹھٹھا کیا تھا اور سچی بات نہیں بتائی تھی۔اگر سچ پوچھتے ہو تو اس رئیس کے ہاں نہیں بلکہ فلاں رئیس کے ہاں دعوت ہے یہ سن کر تمام لڑکے پھر اس رئیس کے مکان کی طرف بھاگ پڑتے مگر ان کے جانے کے بعد پھر اسے خیال آتا کہ میں نے بات تو کی