خطبات محمود (جلد 19) — Page 290
خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۸ء ان کا ہر سکون اپنی راہ میں قرار دیا اور کیونکر کہہ دیا کہ ان کا ہر کام میری رضا کیلئے ہے۔اس کی تہہ میں دراصل وہی بات ہے جو میں نے بتائی ہے اور جس کی مثال میں میں نے بتایا ہے کہ عطر لگانے کے بعد تم گھنٹوں بلکہ دنوں تک اس کی خوشبو محسوس کرتے ہو۔کمرہ میں آگ جلاتے ہو تو اس کے بجھنے کے بعد بھی اس کی گرمی محسوس کرتے ہو۔اسی طرح انبیاء خدا تعالیٰ کی محبت میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ جب وہ سوتے ہیں اُس وقت بھی ان پر یہی محویت طاری ہوتی ہے، جب اٹھتے ہیں اس وقت بھی یہی محویت ہوتی ہے، جب کھاتے ہیں اُس وقت بھی اور جب پیتے ہیں اُس وقت بھی ، اس طرح اُن کی نیند بھی خدا کیلئے ہوتی ہے اور اُن کی بیداری بھی ، اُن کا کھانا بھی خدا کے لئے ہوتا اور اُن کا پینا بھی۔اسی طرح اُن کا اُٹھنا ، اُن کا بیٹھنا ، اُن کا نہانا، اُن کا پیشاب پاخانہ کرنا سب خدا کیلئے ہوتا ہے۔وہ کام دنیا کو دنیا کے نظر آتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ کی میں وہ اُس کیلئے ہوتے ہیں کیونکہ اُن کاموں میں وہی خوشبو سمائی ہوئی ہوتی ہے جو خوشبو اُن کی زندگی کا اصل مقصود ہوتی ہے۔تو جب محض اللہ کوئی شخص کام کرتا ہے اُس وقت اُس کی باقی گھڑیوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔پس مؤمن کو اپنے کاموں میں للہیت کو کبھی نہیں بھولنا کی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے ہم کو ایک ایسے ماحول میں پیدا کیا ہے کہ ہمیں سزائیں بھی دینی پڑتی ہیں، ہمیں گرفتیں بھی کرنی پڑتی ہیں، ہمیں سیاستِ اسلام کو بھی قائم کرنا پڑتا ہے مگر باوجود اس کے چونکہ بندہ خدا تعالیٰ کا ظل ہے اور خدا تعالیٰ اپنے متعلق یہ فرماتا ہے کہ رحمتِي وسعت كُل شَيءے اس لئے ہمیں معافیاں بھی دینی پڑتی ہیں ، درگزر بھی کرنا پڑتا ہے اور چشم پوشیاں بھی کرنی پڑتی ہیں۔کئی نادان ہیں جو ان باتوں کی وجہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔چنانچہ بعض تو وہ ہیں جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ کیوں زیادہ بختی نہیں کی جاتی اور بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کیوں نرمی نہیں کی جاتی وہ یہ نہیں جانتے کہ ہم اس خدا کے مظہر ہیں جو نرمی بھی کرتا ہے اور سختی بھی۔وہ مجرم کو اس کے کئے کی سزا بھی دیتا ہے اور کئی مجرموں کو معاف بھی کر دیتا ہے۔مؤمن تو خدا تعالیٰ کا ظلت ہے ور نہ اپنی ذات میں مؤمن کوئی چیز نہیں، اپنی ذات میں نبی بھی کوئی چیز نہیں۔نبی کی قیمت اسی لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ظل ہے، صدیق کی قیمت بھی اسی لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ظل۔ہے،