خطبات محمود (جلد 19) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۸ء لیتا ہے تو اُس وقت وہ خدا تعالیٰ کا مظہر بن ہو جاتا ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ عطر کا ایک چھینا تی جب کپڑوں پر پڑے تو وہ کئی کئی دن تک انسانی دماغ کو معطر رکھے سورج چڑھے اور اس کے غروب ہونے کے بعد بھی زمین سے گرمی کی لپیٹیں آتی رہیں۔بارش برسے اور اس کے کئی کئی کی دن بعد بھی ٹھنڈک محسوس ہوتی رہے مگر خدا کسی جسم میں آئے اور اس کا اثر کام کے ختم ہوتے ہی غائب ہو جائے۔اگر تم ایک منٹ کیلئے بھی خدا تعالیٰ کا مظہر بن جاتے ہو تو یقیناً اس کے گھنٹوں بعد کی تمہاری حالت بھی خدا نما ہوگی اور تم ایک منٹ میں جو کام کرو گے اس کے بدلے کئی ج گھنٹوں کیلئے خدا تعالیٰ کے مظہر بن جاؤ گے۔اور اگر تم اس ایک منٹ کو ترقی دیتے چلے جاؤ تو کی پھر تم چوبیس گھنٹے ہی خدا تعالیٰ کے مظہر بن سکتے ہو۔چاہے دنیا کے نزدیک تم نے خدمتِ خلق کیلئے ایک یا دو گھنٹے وقت دیا ہو۔جس طرح آگ بجھ جاتی ہے مگر کمرہ پھر بھی گرم رہتا ہے، بارش برس جاتی ہے مگر خنکی پھر بھی قائم رہتی ہے اسی طرح ہوتے ہوتے تمہاری یہ حالت ہو جائے گی کہ تمہارا گھنٹے دو گھنٹے کا کام اپنے اثرات کے لحاظ سے چومیں گھنٹوں پر پھیل جائے گا اور پھر کل کا کام اس اثر کو اور بڑھائے گا اور پرسوں کا کام اس اثر کو اور ترقی دے گا یہاں تک کہ بالکل ممکن ہے بلکہ غالب ترین بات یہ ہے کہ تمہاری روحانیت اس قدر ترقی کر جائے اور کی تمہاری نیتیں اتنی صاف ہو جائیں کہ وہ دو گھنٹے کا کام نہ صرف تمہیں باقی بائیس گھنٹوں کیلئے خدا تعالیٰ کا مظہر بنادے بلکہ جب دوسرا دن چڑھے تو اُس دن جو کام تم خدا تعالیٰ کے نمونہ پر کرو صرف اُسی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے مظہر نہ بنو بلکہ پہلے دن کی مظہر بیت ابھی باقی ہو اور وہ دونوں کی مل کر تمہارے نور کو اور بھی بڑھا دیں اور ہوتے ہوتے ایک غیر محدود ذخیرہ انعکاساتِ الہیہ کا تمہارے جسم میں جمع ہو جائے۔آخر یہی وہ طریق ہے جس کے ماتحت کسی انسان کی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کہلاتی ہے۔ورنہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جس قسم کا بنایا ہے اس کے لحاظ سے ۲۴ گھنٹے وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کا مظہر نہیں بن سکتا۔آج تک کوئی نبی بھی ایسا نہیں آیا جو سوتا نہ ہو، یا کھانا نہ کھا تا ہو، یا پانی نہ پیتا ہو، یا پاخانہ پیشاب نہ کرتا ہو، یا نہا تا دھوتا نہ ہو، یا بیوی بچوں کا فکر نہ کرتا ہو۔یہ ساری ضروریات نبیوں کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں پھر کیونکر خدا تعالیٰ نے ان کی ہر حرکت اور