خطبات محمود (جلد 19) — Page 247
خطبات محمود ۲۴۷ سال ۱۹۳۸ء ساتھ لے کر کھڑے ہو جائیں کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں ان کیلئے اپنی جان قربان کر دینا کوئی کی دو بھر نہ ہو۔جب کسی قوم کے نوجوانوں میں یہ روح پیدا ہو جائے کہ اپنے قومی اور مذہبی مقاصد کی تعمیل کیلئے جان دے دینا وہ بالکل آسان سمجھنے لگیں اُس وقت دنیا کی کوئی طاقت انہیں مار نہیں سکتی۔جس چیز کو مارا جا سکتا ہے وہ جسم ہے مگر جس شخص کی روح ایک خاص مقصد لے کر کھڑی ہو جائے اُس روح کو کوئی فنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔بلکہ ایسی قوم کا اگر ایک شخص مرے تو اُس کی جگہ دس پیدا ہو جاتے ہیں۔میں ہمیشہ یہ سمجھا کرتا ہوں کہ قصے کہانیوں میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ فلاں نے ایک دیو مارا تو اس کے خون کے قطروں سے دس دیو اور پیدا ہو گئے ، یہ ذہنی قتل کے ناممکن ہونے کو ایک تمثیل کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے اور اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب کسی قوم کے ذہن میں راسخ کی طور پر کوئی نیک عقیدہ پیدا ہو جائے اُس وقت اسے کوئی قتل نہیں کر سکتا۔اور اگر اس قوم کے کسی فرد پر کوئی شخص ہاتھ اٹھاتا اور اُسے قتل کرتا ہے تو اُس کی موت ایسی شاندار ہوتی ہے کہ ہزاروں اس کے قائمقام پیدا ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ہمیشہ یہ نظارہ نظر آیا ہے اور اب بھی یہ نظارہ نظر آسکتا ہے بشرطیکہ ہمارے نوجوان یہی روح اپنے اندر پیدا کر یں۔پھر نہ انہیں وطن میں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ غیر ملک میں ان کو کوئی مٹا سکتا ہے۔کیونکہ وہ اس روح کے نتیجہ میں وہی لوگ بن جائیں گے جن کو اسی دنیا میں خدا تعالیٰ ایسی زندگی دے دیتا ہے جس پر موت نہیں آتی اور ایسی حیات دے دیتا ہے جس پر فنا طاری نہیں ہوتی۔چونکہ اب نماز کے بعد مجلس شوریٰ کا اجلاس ہونے والا ہے اس لئے میں خطبہ کو اسی پر ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو فرض شناسی کی توفیق عطا فرمائے اور جماعت کے دوسرے افراد کے دلوں میں بھی ایسی روح پیدا کرے کہ وہ دوبارہ اُسی اسلام کو دنیا میں قائم کر کے دکھا دیں جس اسلام کو آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا۔“ (الفضل ۲۲ را پریل ۱۹۳۸ء ) ا متی باب ۲۳ آیت ۲ ،۳۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء مسلم كتاب المساجد باب مَنْ اَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ