خطبات محمود (جلد 19) — Page 246
خطبات محمود ۲۴۶ سال ۱۹۳۸ء اور بیرونی جماعت کی مجالس بھی ان اصول کے ماتحت اپنے کام کو محنت سے سرانجام دیں گی اور ی خدمت خلق کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھیں گی۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ خدمت خلق کے کام میں جہاں تک ہو سکے وسعت اختیار کرنی چاہئے اور مذہب اور قوم کی حد بندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر مصیبت زدہ کی مصیبت کو دور کرنا چاہئے خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی ہو یا سکھ۔ہمارا خدا ربُ العالمین ہے اور جس طرح اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اُسی طرح اُس نے ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں کو بھی پیدا کیا ہے۔پس ج اگر خدا ہمیں توفیق دے تو ہمیں سب کی خدمت کرنی چاہئے۔یہاں قادیان میں بعض مجبور یوں کی وجہ سے ہم عارضی طور پر ہندوؤں سے سو دا نہیں خریدتے مگر بیسیوں ہندو اور سکھ ہمارے پاس امداد کیلئے آتے رہتے ہیں اور ہم ہمیشہ ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ایک دفعہ کانگریس کی ایک مشہور لیڈر یہاں آئیں اور انہوں نے کہا کہ یہاں کے ہندوؤں کو بہت تکلیف ہے۔میں نے کہا میں ایسی بیسیوں مثالیں دے سکتا ہوں جب یہ ہندو میرے پاس آئے اور میں نے ان کی امداد کی اور ان پر بڑے سے بڑے احسان کئے۔چنانچہ بعض واقعات میں نے انہیں بتائے کی بھی۔وہ میری باتیں سُن کر حیران ہو گئیں اور کہنے لگیں یہ بات ہے میں نے کہا آپ ان سے کی پوچھ لیجئے کہ آیا فلاں فلاں مواقع پر میں نے ان کی مدد کی ہے یا نہیں ؟ اور اب بھی میں ان کے ساتھ موقع ملنے پر حُسنِ سلوک ہی کرتا ہوں مگر انہوں نے پھر ہندوؤں سے پوچھا نہیں شاید میری کی بات پر ہی اعتماد کر لیا یا انہیں پوچھنے کا موقع نہ ملا۔تو حسن سلوک میں کسی مذہب کی قید نہیں ہونی چاہئے اور جو شخص بھی اس قسم کے حسن سلوک میں مذہب کی قید لگاتا اور اپنے ہم مذہبوں کی خدمت کے کام کرنا تو ضروری سمجھتا ہے مگر غیر مذہب والوں کی خدمت کرنا ضروری نہیں سمجھتا وہ اپنا نقصان آپ کرتا ہے اور دنیا میں لڑائی جھگڑے کی روح پیدا کرتا ہے۔پھر جو تبلیغی جماعتیں ہوتی ہیں اُن کیلئے تو یہ بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ وہ ساری قوموں سے حسن سلوک کریں اور کسی کو بھی اپنے دائرہ احسان سے باہر نہ نکالیں۔تا تمام قو میں اُن کی مداح بنیں۔پس وہ خدمت خلق کے کاموں میں مذہب وملت کے امتیاز کے بغیر حصہ لیں اور جماعت کے جو اغراض اور مقاصد ہیں اُن کو ایسی وفاداری کے