خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 226

خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۸ وَ إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ نَاصِرُ حِزْبِهِ وَ مَنْ كَانَ مِنْ حِزْبِى فَيُعْلَى وَ يُنْصَرُ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں رحمن ہوں جس کی دین اور بخشش اور رحمت سب پر وسیع ہے اور کا فرومؤمن میں کوئی فرق نہیں کرتی اور میرے دین کے جو مخالف ہیں میری رحمت ان کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔دیکھو سانس لینے کیلئے ہوا اور پانی اور روشنی کا سامان میں نے ان کیلئے بھی جو میرے دین کی مخالفت کرتے ہیں، ویسا ہی کیا ہوا ہے جیسا مؤمنوں کیلئے کیونکہ میں رحمان ہوں۔پھر یہ کوئی کیونکر خیال کر سکتا ہے کہ جو میرا ہو جائے میں اسے چھوڑ دوں گا اور اس کی مدد پر کمر بستہ نہیں ہوں گا۔گویا پہلے مصرعہ کا نتیجہ آگے بیان کیا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے حزب ہو جاتے ہیں انہیں غلبہ دیا جاتا ہے اور مدد کی جاتی ہے۔پس جو بھی اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہو جائے اُسے مدد ملنا یقینی ہے کیونکہ جو رحمن اپنے دین کے مخالفوں کو بھی فیض سے محروم نہیں رکھتا یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو اس کا ہو جائے وہ اس کی مدد نہ کرے۔وہ ماں جو غیر کے بچہ سے محبت کرتی اور پالتی ہے اپنے بچے کے ساتھ اس کی محبت کا اندازہ کرنا بالکل آسان ہے۔خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں غیر سے بھی حسنِ سلوک کرتا ہوں۔میرا سورج ہے وہ تم کو ہی نہیں بلکہ ہندوؤں اور سکھوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی فائدہ پہنچا تا ہے بلکہ یہ تو پھر بھی خدا کے کسی نہ کسی رنگ میں قائل ہیں، دہریوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے بادل آتے ہیں مگر کیا کبھی تم نے دیکھا کہ وہ مؤمن کے کھیت کو تو سیراب کریں اور غیر مومنوں کے کھیتوں کو چھوڑ دیں۔کیا کبھی یہ ہوا ہے کہ اس کی ٹھنڈی ہوائیں تمہارے لئے تو ٹھنڈی اور آرام پہنچانے والی ہوں مگر کافروں کیلئے گرم کو بن جائیں۔وہ اسی طرح ان کو بھی لذت پہنچاتی ہیں جس طرح کی تمہیں۔تو جو رحمن خدا ہے اور جس کے فضلوں کا سلسلہ اتنا وسیع ہے ، کیا تم خیال کرتے ہو کہ جو اُس کا ہو جائے وہ اُسے چھوڑ دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور الہام ہے جو دراصل پنجابی کا ایک پرانا شعر ہے مگر آپ پر بھی الہا م نازل ہوا ہے اور وہ یہ کہ جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو۔یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کا ہو جائے اللہ تعالی ساری دنیا کو اُسی کا بنادیتا ہے اور ذرہ ذرہ کو