خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 221

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء پس ان خطبات میں اگر چہ بظا ہر میرے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کی عمر چالیس سال سے کم ہے تی مگر حقیقتاً وہ لوگ بھی میرے مخاطب ہیں جن کی عمر خواہ کتنی ہو مگر خدمت دین میں وہ دوسروں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ ظاہری نو جوانوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے کی ہیں۔کیونکہ نو جوانوں کے تو جسم بھی کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں مگر ان کے جسم جواب دے چکے ہوتے ہیں اور ان کی مثال اُن غرباء کی ہوتی ہے جن کے پاس دولت نہیں ہوتی مگر چندوں کے وقت وہ دوسروں سے پیچھے رہنا گوارا نہیں کرتے۔قرآن کریم میں اشارہ ایک ایسے واقعہ کا ذکر آتا ہے جس کی تفصیلات احادیث سے یوں معلوم ہوتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چندہ کی تحریک کی۔ایک صحابی مجلس سے اُٹھے اور جا کر ایک کنویں پر کچھ کام کیا اور وہاں سے کچھ جو مزدوری کے طور پر حاصل کر کے لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے۔مختلف لوگ چندے لا رہے تھے ، کوئی سینکڑوں اور کوئی ہزاروں روپے کی مگر انہی میں یہ صحابی بھی وہ بو لے کر آئے جو دونوں ہاتھوں میں تھے اور لا کر رسول کریم صلی اللہ می علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے۔اس پر منافق ہنسے اور کہا کہ ان جوؤں سے دنیا فتح کی کی جائے گی۔انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ جو خدا تعالیٰ کے نزدیک ہزاروں روپوں سے زیادہ تھے کیونکہ اس کے پاس کچھ نہیں تھا مگر اس نے خیال کیا کہ میں دوسروں سے پیچھے کیوں رہوں۔اپنے جسم سے کام لیا ، مزدوری کی اور جو لا کر حاضر کر دیا۔یہی حال اُن بوڑھوں کا ہے جن کے جسم اگر چہ جواب دے چکے ہیں مگر دل جوان ہیں اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ثواب میں پیچھے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ جوان ہی ہیں بلکہ جوانوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہیں۔جس طرح غریب لوگ باوجود تھوڑی رقم دینے کے کئی زیادہ دینے والوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور نو جوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کی اپنی حالت کو سُدھارنے اور دین کی خدمت کیلئے تقوی اور سعی سے کام لینے کی طرف توجہ کریں۔آج اسلام غربت میں ہے اور اگر آج کوئی جماعت اسے قائم نہ کرے تو تھوڑے عرصہ میں کوئی اس کا نام لیوا بھی باقی نہ رہے گا۔ہندو اور عیسائی تو اسے مٹانے میں لگے ہی ہوئے ہیں کی